30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فتاوٰی ہندیہ:(نص ۴ تا ۷)فتاوٰی خلاصہ و فصول عمادیہ و جامع الفصولین وفتاوٰی ہندیہ وغیرہا میں ہیں:
|
واللفظ للعمادی قال قال انا رسول اﷲ او قال بالفارسیۃ من پیغمبرم یرید بہ من پیغام می برم یکفر ولوانہ حین قال ھذہ المقالۃ طلب غیرہ منہ المعجزۃ قیل یکفر الطالب والمتأخرون من المشائخ قالوا ان کان غرض الطالب تعجیزہ و افتضاحہ لا یکفر [1] |
یعنی اگر کوئی شخص کہے میں اﷲ کا رسول ہوں یا فارسی میں کہے میں پیغمبر ہوں کافر ہوجائے گا اگرچہ مراد یہ لے کہ میں کسی کا پیغام پہنچانے والا ایلچی ہوں،اور اگر اس کہنے والے سے کوئی معجزہ مانگے تو کہا گیا یہ بھی مطلقًا کافر ہے،اور مشائخ متأخرین نے فرمایا اگر اسے عاجز و رسوا کرنے کی غرض سے معجزہ طلب کیا تو کافر نہ ہوگا ورنہ ختم نبوۃ میں شك لانے کے سبب یہ بھی کافر ہوجائے گا۔ |
اعلام بقواطع الاسلام :(نص ۸)اعلام بقواطع الاسلام میں ہے:
|
واضح تکفیر مدعی النبوۃ و یظھر کفر من طلب منہ معجزۃ لانہ بطلبہ لھا منہ مجوز لصدقہ مع استحالتہ المعلومۃ من الدین بالضرورۃ نعم ان اراد بذٰلك تسفیھہ وبیان کذبہ فلا کفر[2] |
مدعی نبوت کی تکفیر تو خود ہی روشن ہے اور جو اس سے معجزہ مانگے اس کا بھی کفر ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس مانگنے میں اس مدعی کا صدق محتمل مان رہا ہے حالانکہ دین متین سے بالضرورۃ معلوم ہے کہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد دوسرا نبی ممکن نہیں،ہاں اگر اس طلب سے اسے احمق بنانا اس کا جھوٹ ظاہر کرنا مقصود ہو تو کفر نہیں۔ |
(نص ۹،۱۰)اسی(اعلام بقواطع الاسلام)میں ہے:
|
ومن ذٰلک(ای المکفرات)ایضا تکذیب نبی او نسبۃ تعمد کذب الیہ |
انہیں باتوں میں جو معاذ اﷲ آدمی کو کافر کر دیتی ہیں کسی نبی کو جھٹلانا یا اس کی طرف قصدًا جھوٹ بولنے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع