30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۲۔میرے بعد دجّال کذّاب ادعائے نبوت کریں گے۔
۱۳۔میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
۱۴۔نہ میری امت کے بعد کوئی امت۔
ادھر علمائے کتبِ سابقہ عــــــہ اﷲ و رسل جل جلالہ و صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے
ارشادات سن سن کر شہادات ادا کریں گے کہ:
۱۔احمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خاتم النبیین ہوں
گے ان کے بعد کوئی نبی نہیں۔
۲۔انکے سوا کوئی نبی باقی نہیں۔
۳۔وہ آخر الانبیاء ہیں۔
ادھر ملائکہ و انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی صدائیں آرہی ہیں کہ:
۴۔وہ پسین پیغمبراں ہیں۔
۵۔وہ آخر مرسلان ہیں۔
خود حضرت عزت عزت عزتہ سے ارشادات جانفزا و دلنواز آرہے ہیں کہ:
۶۔محمد ہی اوّل و آخر ہے۔
۷۔اس کی امت مرتبے میں سب سے اگلی اور زمانے میں
سب سے پچھلی۔
۸۔وہ سب انبیاء کے پیچھے آیا۔
۹۔اے محبوب! میں نے تجھے آخر النبیین کیا۔
۱۰۔اے محبوب! میں نے تجھے سب انبیاء سے پہلے بنایا
اور سب کے بعد بھیجا۔
۱۱۔محمد آخر الانبیاء ہے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
مگر یہ ضال مضل محرف قرآن مغیر ایمان ہے کہ نہ ملائکہ کی سنے نہ انبیاء کی نہ مصطفٰی کی مانے نہ ان کے خدا کی۔سب کی طرف سے ایك کان گونگا ایك بہرا،ایك دیدہ اندھا ایك پھوٹا،اپنی ہی ہانك لگائے جاتا ہے کہ یہ سب نافہمی کے اوہام،خیالاتِ عوام ہیں،آخر الانبیاء ہونے میں فضیلت ہی کیا ہے انّا ﷲ
عــــــہ:نیز تذییلات میں مقوقس کی دو حدیثیں گزریں کہ ایك نبی باقی تھے وہ عرب میں ظاہر ہوئے،ہرقل کی دو حدیثیں کہ یہ خانہ آخر البیوت تھا،عبداﷲ بن سلام کی حدیث کہ وہ قیامت کے ساتھ مبعوث ہوئے،ایك حبر کا قول کہ وہ امت آخرہ کے نبی ہیں بلکہ جبریل علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عرض کہ حضور سب پیغمبروں سے زمانے میں متاخر ہیں۔(م)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع