30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صحابہ کرام اور ختم نبوت:
فقیر غفرلہ المولی القدیر نے ان احادیث کثیرہ میں صرف گیارہ حدیثیں ایسی لکھیں جن میں تنہا ختم نبوت کا ذکر ہے باقی نوے ۹۰ احادیث اور اکثر تذییلات،ان پر علاوہ سو ۱۰۰ سے زائد حدیثیں وہی جمع کیں کہ بالتصریح حضور کا اسی معنی پر خاتم ہونا بتارہی ہیں جسے وہ گمراہ ضال عوام کا خیال جانتا ہے اور اس میں نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لئے کوئی تعریف نہیں مانتا،صحابہ کرام وتابعین عظّام کے ارشادات کہ تذییلوں میں گزرے،مثلًا:
۱۔امیر المؤمنین عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے عرض کی
کہ اﷲ تعالٰی نے حضور کو سب انبیاء کے بعد بھیجا۔
۲۔انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا قول تمہارے نبی آخر
الانبیاء ہیں۔
۳۔عبداﷲ بن ابی اوفٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا ارشاد
کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں۔
۴۔امام باقر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا قول کہ وہ سب
انبیاء کے بعد بھیجے گئے۔
انہیں تو یہ گمراہ کب سنے گا کہ وہ اسی وسوسۃ الخناس میں صاف یہ خود بھی بتایا گیا ہے کہ وہ سلف صالح کے خلاف چلا ہے اور اسکا عذر یوں پیش کیا کہ: اگر بوجہ کم التفاتی بڑوں کا فہم کسی مضمون تك نہ پہنچا تو ان کی شان میں کیا نقصان آگیا اور کسی طفل ناداں نے کوئی ٹھکانے کی بات کہہ دی تو کیا وہ عظیم الشان ہوگیا"۔
مگر آنکھیں کھول کر خود محمد
رسول اﷲ خاتم النبیین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی متواتر حدیثیں دیکھئے کہ:
۱۔میں عاقب ہوں جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔
۲۔میں سب انبیاء میں آخر نبی ہوں۔
۳۔میں تمام انبیاء کے بعد آیا۔
۴۔ہمیں پچھلے ہیں۔
۵۔میں سب پیغمبروں کے بعد بھیجا گیا۔
۶۔قصر نبوت میں جو ایك اینٹ کی جگہ تھی مجھ سے
کامل کی گئی۔
۷۔میں آخر الانبیاء ہوں۔
۸۔میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
۹۔رسالت و نبوت منقطع ہوگئی اب نہ کوئی رسول ہوگا
نہ نبی۔
۱۰۔نبوت میں سے اب کچھ نہ رہا سوا اچھے خواب کے۔
۱۱۔میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع