30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
|
والذی بعثنی بالحق ما اخرتك الا لنفسی وانت منّی بمنزلۃ ھارون من موسٰی غیر انہ لا نبی بعدی[1] |
قسم اس کی جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا میں نے تمہیں خاص اپنے لئے رکھ چھوڑا ہے تم مجھ سے ایسے ہو جیسے ہارون موسٰی سے مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں تم میرے بھائی اور وارث ہو۔ |
امیر المؤمنین نے عرض کی:مجھے حضور سے کیا میراث ملے گی؟فرمایا:جو اگلے انبیاء کو ملی۔عرض کی:انہیں کیا ملی تھی؟ فرمایا:خدا کی کتاب اور نبی کی سنت،اور تم میرے ساتھ جنت میں میری صاحبزادی کے ساتھ میرے محل میں ہوگے اور تم میرے بھائی اور رفیق ہو۔
ابن عساکر عــــــہ بطریق عبداﷲ بن محمد بن عقیل عن ابیہ عن جدہٖ عقیل بن ابی طالب رضی اﷲ تعالٰی عنہ راوی،حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حضرت عقیل رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے فرمایا:خدا کی قسم میں تمہیں دو جہت سے دوست رکھتا ہوں، ایك تو قرابت،دوسرے یہ کہ ابوطالب کو تم سے محبت تھی،اے جعفر! تمہارے اخلاق میرے اخلاق کریمہ سے مشابہ ہیں:
|
عــــــہ:فی نسخۃ کنزالعمال المطبوعۃ عن عبداﷲ بن عقیل عن ابیہ عن جدہ عقیل وھو خطاء وصوابہ عبداﷲ بن محمد بن عقیل،عبداﷲ تابعی صدوق من رجال الاربعۃ ما خلا النسائی قال الذھبی حدیثہ فی مرتبۃ الحسن وابوہ تابعی مقبول رجال ابن ماجۃ۱۲ منہ(م) |
کنزالعمال کے مطبوعہ نسخہ میں عبداﷲ بن عقیل اپنے والد ماجد اور ان کے دادا عقیل سے راوی جبکہ یہ خطا ہے اور صحیح یہ ہے عبداﷲ بن محمد بن عقیل،یہ عبداﷲ تابعی ہیں نہایت صادق، نسائی کے ماسوا سنن صحاح کے راویوں میں شمار ہیں،امام ذہبی نے فرمایا ان کی روایت حسن کے مرتبہ میں ہے اور ان کے والد بھی تابعی اور مقبول،ابن ماجہ کے راویوں میں شمار ہیں۔ت |
[1] تاریخ دمشق لابن عسا کر،ذکر من اسمہ سلمان،ترجمہ سلمان بن الاسلام الفارسی،داراحیاء التراث،العربی بیروت،۶/ ۲۰۳، فضائل الصحابۃ لاحمد بن حنبل،حدیث ۱۰۸۵،موسسۃ الرسالہ،بیروت،۲/ ۳۹۔۶۳۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع