30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
حدیث الضب لا بن عمر تبع فیہ الماتن اعنی الامام القسطلانی صاحب المواھب وسبقھما الد میری فی حٰیوۃ الحیوان الکبری لکن الذی رأیت فی الخصائص الکبرٰی والجامع الکبیر للامام الجلیل الجلال السیوطی ھو عزوہ لامیرالمؤمنین عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کما قدمت وقد اوردہ فی الجامع فی مسند عمر فزیادۃ لفظ الابن اما وقع سھوا اویکون الحدیث من طریق ابن عمر عن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما فیصح العزو الی کل وان کان الاولی ذکرا لمنتھی ویحتمل علی بُعد عن کل منھما فاذن یکون مرویا عن ستۃ من الصحابۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھم،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
نے خصائص الکبرٰی میں ذکر فرمایا حالانکہ انہوں نے اس کتاب کے خطبہ میں فرمایا ہے میں نے اس کتاب کو موضوع اور مردودروایات سے دور رکھا ہے۱ھ قلت(میں کہتا ہوں)زرقانی کا سو سمار والی حدیث کو ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما کی طرف منسوب کرنا ماتن یعنی مصنف مواہب امام قسطلانی کی پیروی ہے جبکہ ان دونوں سے قبل علامہ دمیری نے حٰیوۃ الحیوان میں اس کو ذکر کیا لیکن میں نے امام جلا ل الدین سیوطی کی خصائص الکبرٰی اور جامع کبیر میں دیکھا انہوں نے اس کو امیر المؤمنین عمر فاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی طرف منسوب کیا ہے جیسا کہ میں پہلے ذکر کرچکا ہوں، انہوں نے اسے اپنی جامع میں حضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے مسند میں ذکر فرمایا، تو "ابن"کا لفظ سہوًا لکھا گیا ہے یا پھر ابن عمر کے ذریعے حضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے مروی ہے لہٰذا دونوں حضرات کی طرف نسبت درست ہے،اگر چہ منتہی راوی یعنی عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی طرف منسوب کرنا اولٰی ہے اور بعید احتمال کے طور پر دونوں حضرات سے مستقل روایت بھی ہوسکتی ہے تو یوں چھ صحابہ سے یہ حدیث مروی ہوگی۔(واﷲ تعالٰی اعلم)۔ت |
میرے بعد کوئی نبی نہیں:
سعید بن ابی منصور و امام احمد وابن مردویہ حضرت ابوالطفیل رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
لا نبوۃ بعدی الا المبشرات الرؤیا الصالحۃ[1] |
میرے بعد نبوت نہیں مگر بشارتیں ہیں اچھے خواب۔ |
[1] مسند امام احمد بن حنبل،حدیث ابی الطفیل رضی اﷲ تعالٰی عنہ،دارالفکر بیروت،۵/ ۴۵۴،مجمع الزوائد،کتاب التعبیر،دارالکتاب، بیروت،۷/ ۱۷۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع