30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
سندھما کذاب ولا وضاع ولا متھم بہ فانی یاتھما الوضع وھذا امام الشان العسقلانی قد اقتصرفی حدیث ابی منظور علی تضعیفہ ولہ شاھد من حدیث معاذکما تری لا جرم ان قال الزرقانی نہایتہ الضعف لا الوضع [1]،وقال ھو والقسطلانی فی حدیث الضب (معجزاتہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فیھا ما ھو ابلغ من ھذا ولیس فیہ ما ینکر شر عا خصوصا و قدرواہ الائمۃ)الحافظ الکبار کابن عدی وتلمیذہ الحاکم و تلمیذہ البیھقی وھو لا یروی موضوعا والدارقطنی وناھیك بہ(فنھا یتہ الضعف لاالوضع)کما زعم کیف ولحدیث ابن عمر طریق اٰخر لیس فیہ السلمی رواہ ابو نعیم وورد مثلہ من حدیث عائشۃ وابی ھریرۃ عند غیر ھما [2] ۱ھ قلت وقد اوردکلا الحدیثین الامام خاتم الحفاظ فی الخصائص الکبری وقد قال فی خطبتہا نزھتہ عن الاخبار الموضوعۃ وما یرد ۱ھ [3]، قلت وعزو الزرقانی
|
اور نہ ہی ان کی سندوں میں کوئی کذاب اور وضاع اور متہم راوی ہے تو ان حدیثوں کا موضوع ہونا کہاں سے ہوا جبکہ امام عسقلانی نے ابو منظور کی حدیث کو ضعیف کہنے پر اقتصار کیا حالانکہ اس حدیث کا شاہد حضرت معاذ کی حدیث ہے جیسا کہ آپ دیکھ رہے اسی بنا پر علامہ زرقانی نے فرمایا زیادہ سے زیادہ یہ ضعیف ہے موضوع نہیں ہے،اور انہوں نے اور امام قسطلانی نے بھی سو سمار والی حدیث کے متعلق فرمایا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے معجزات میں تو اس سے بڑھ کر واقعات ہیں جبکہ اس حدیث میں شرعی طور پر قابل انکا ر چیز بھی نہیں،خصوصًا جبکہ اس کو بڑے ائمہ حفاظ جیسے ابن عدی،ان کے شاگرد امام حاکم اور ان کے شاگرد امام بیہقی نے روایت کیا ہو،امام بیہقی تو موضوع روایت ذکر نہیں کرتے،اس کو دارقطنی نے روایت کیا ان کی سند تو تجھے کافی ہے تو زیادہ سے زیادہ یہ حدیث ضعیف ہوسکتی ہے موضوع نہیں ہے جیسا کہ بعض نے خیال کیا،موضوع کیسے کہا جائے جبکہ ابن عمر کی حدیث دوسرے طریقہ سے بھی مروی ہے جس میں سلمٰی مذکور نہیں اس طریق کو ابو نعیم نے روایت کیا اور حضرت عائشہ صدیقہ اور ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اس کی مثل دونوں کے غیر سے وارد ہے ۱ھ قلت(میں کہتا ہوں)ان دونوں حدیثوں کو امام جلا ل الدین سیوطی |
[1] شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ مقصد رابع،فصل اول،حدیث الضب،دارالمعرفۃ بیروت،۵/ ۱۴۸
[2] المواہب اللدنیہ مقصد رابع،فصل اول،حدیث الضب،المکتب الاسلامی،بیروت،۲/ ۵۵۵،شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ مقصد رابع،فصل اول،حدیث الضب،دارالمعرفۃ بیروت،۵/ ۵۰۔۱۴۹
[3] الخصائص الکبرٰی،مقدمۃ المؤلف،دارالکتب الحدیثیہ،بیروت،۱/ ۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع