30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مصر و اسکندریہ کے پاس تشریف لے گئے،اس نے ان سے دریافت کیا کہ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کس بات کی طرف بلاتے ہیں؟انہوں نے فرمایا:توحید و نماز پنجگانہ و روزہ رمضان وحج و فائے عہد۔پھر اس نے حضور کا حلیہ پوچھا،انہوں نے باختصار بیان کیا،وہ بولا:
|
قد بقیت اشیاء لم تذکر ھا فی عینیہ حمرۃ قلت ما تفارقہ وبین کتفیہ خاتم النبوۃ الخ |
ابھی اور باتیں باقی رہیں کہ تم نے نہ بیان کیں ان کے آنکھو ںمیں سرخ ڈورے ہیں کہ کم کسی وقت جدا ہوتے ہوں اور ان کے دونوں شانوں کے بیچ مہر نبوت ہے۔ |
پھر حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی اور صفات کریمہ بیان کر کے بولا:
|
قد کنت اعلم ان نبیا قدبقی وقد کنت اظن مخرجہ بالشام،وھناك کانت تخریج الانبیاء قبلہ فاراہ قد خرج فی ارض العرب فی ارض جھد وبؤس والقبط لا تطاوعنی علی اتباعہ وسیظھر علی البلاد[1] |
مجھے یقینا معلوم تھا کہ ایك نبی باقی ہے اور مجھے گمان تھا کہ وہ شام میں ظاہر ہوگا کہ اگلے انبیاء نے وہاں ظہور کیا اب میں دیکھتا ہوں کہ انہوں نے عرب میں ظہور فرمایا،محنت میں مشقت کی زمین میں،اور قبطی ان کی پیروی میں میری نہ مانیں گے عنقریب وہ ان شہروں پر غلبہ پائیں گے۔ |
تتمہ حدیث:ابوالقاسم نے بطریق ہشام بن اسحق وغیرہ اور ابن سعد نے طبقات میں بطریق محمد بن عمر بن واقد ان کے شیوخ سے روایت کیا کہ مقوقس نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو اسی مضمون کی عرضی لکھی کہ:
|
قد علمت ان نبیا بقی وکنت اظن انہ یخرج بالشام وقد اکرمتك رسولك وبعثت الیك بھدیۃ[2] |
مجھے یقین تھا کہ ایك نبی باقی ہے اور میرے گمان میں وہ شام سے ظہور کرتا اور میں نے حضور کے قاصد کا اعزاز کیا اور حضور کے لئے نذر حاضر کرتا ہوں۔ |
عبد اللہ بن سلام کا واقعہ ایمان:
تذ ییل سوم:بیہقی دلائل میں حضرت عبداﷲ بن سلام رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی،جب میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا چرچا سنا اور حضور کے صفت ونام وہیات اور جن جن باتوں کی ہم حضور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع