30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رافضی کی سزا:
دارقطنی فضیل بن مرزوق سے راوی فرمایا:
|
قلت لعمر بن علی بن الحسین بن علی رضی اﷲ تعالٰی عنھم افیکم امام تفترض طاعتہ تعرفون ذٰلك لہ من لم یعرف ذٰلك لہ فمات مات میتۃ جاھلیۃ فقال لا واﷲ ما ذٰلك فینامن قال ھذا فھو کاذب فقلت انھم یقولون ان ھذہ المنزلۃ کانت لعلی ثم للحسن ثم للحسین قال قاتلھم اﷲ ویلھم ما ھذا من الدین واﷲ ما ھٰؤلاء الا متأکلین بنا ھذا مختصر [1] |
میں نے امام زین العابدین کے صاحبزادے امام باقر کے بھائی امام عمر بن علی سے پوچھا آپ میں کوئی ایسا امام ہے جس کی طاعت فرض ہوآپ اس کا یہ حق پہنچانتے ہیں جو اسے بے پہچانے مرجائے جاہلیت کی موت مرے،فرمایا خدا کی قسم ہم میں کوئی ایسا نہیں جو ایسا کہے جھوٹا ہے،میں نے کہا رافضی تو کہتے ہیں یہ مرتبہ مولا علی کا تھا،پھر امام حسن پھر امام حسین کو ملا۔فرمایا:اﷲ رافضیوں کو قتل کرے خرابی ہو ان کے لئے کیا دین ہے خدا کی قسم یہ لوگ نہیں مگر ہمارا نام لے کر دنیا کمانے والے والعیاذ باﷲ عزوجل۔ |
نصوص ختم نبوت:
یہاں تك سو ۱۰۰ احادیث فقیر نے لکھیں اور چاہا کہ اسی پر بس
کرے،پھر خیال آیا کہ ذکر پاك امیر المؤمنین علی کرم اﷲ وجہہ ہے دس حدیثیں اور شامل
ہوں کہ نام مبارك مولٰی علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے عدد حاصل ہوں،نظر کروں تو فیضان
روح مبارك امیر المؤمنین سے تذییلات میں دس حدیثیں خود ہی گزر چکی ہیں تذییل بعد
حدیث ۲۵ یك و بعد ۳۹ سہ و بعد ۴۲ یك و بعد ۴۸ و ۵۸دو۲ دو۲ وبعد ۶۲ یك یہ مقصود تو یوں حاصل تھا مگر از انجا کہ وضع رسالہ نصوص ختم نبوت میں
ہے اور ۸ سے ۱۰۰ تك بیس۲۰ حدیثیں اس مطلب کو دوسرے
طرز سے ادا کرتی تھیں لہٰذا خاص مقصود کی بیس حدیثوں کا اضافہ ہی مناسب نظر آیا کہ
خود اصل مرام پر سو حدیثوں کا عدد کامل اور اصل مرویات ایك سو بیس۱۲۰ ہو کر تین چہل حدیث کا فضل حاصل ہو۔
ارشاداتِ انبیاء و علمائے کتب سابقہ:
حاکم صحیح مستدرك میں وہب بن منبہ سے وہ حضرت عبداﷲ بن عباس اور سات دےگر صحابہ کرام
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع