30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اسلاما حین اسلم حتی لحق بربہ[1] |
کہ ان کے سوا کوئی دوسرے کا ذکر ہی نہیں کرتا، |
فرمایا:اس لئے کہ وہ جب سے مسلمان ہوئے اور جب تك اپنے رب عزوجل کے پاس گئے ان کا ایمان سب سے افضل رہا۔
شیخین کی افضلیت: امام دارقطنی جندب اسدی سے راوی:
|
ان محمد بن عبداﷲ بن الحسن اتاہ قوم من اھل الکوفۃ والجزیرۃ فسألوہ عن ابی بکر و عمر فالتفت الیّ فقال انظر الی اھل بلاد ك یسأ لونی عن ابی بکر و عمر لھما افضل عندی من علی [2] |
یعنی امام نفس زکیہ محمد بن عبداﷲ محض ابن امام حسن مثنٰی ابن امام حسن مجتبٰی ابن مولٰی علی مرتضی کرم اﷲ تعالٰی وجوھہم کے پاس اہل کوفہ و جزیرہ سے کچھ لوگو ں نے حاضر ہو کر ابو بکر صدیق و عمر فاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے بارے میں سوال کیا امام نے میری طرف التفات کرکے فرمایا اپنے وطن والوں کو دیکھو مجھ سے ابو بکر و عمر کے با ب میں سوال کرتے ہیں بیشك وہ دونوں میرے نزدیك علی سے افضل ہیں رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین۔ |
رافضی اور خارجی نظریات:
حافظ عمر بن شبہ سیدنا امام زید شہید ابن امام زین العابدین ابن امام حسین شہید کربلا ابن مولا علی مرتضی رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے راوی انہوں نے رافضیوں سے فرمایا:
|
انطلقت الخوارج فبرئت ممن دون ابی بکر و عمر ولم یستطیعو ا ان یقولوا فیھما شیاا وانطلقتم انتم فطفرتم فوق ذٰلك فبرئتم منھا فمن بقی فواﷲ ما بقی احدا لا برئتم منہ[3] |
خارجیوں نے چل کر تو انہیں سے برأت کی جو ابوبکر و عمر سے نیچے ہیں یعنی عثمان و علی رضی اﷲ تعالٰی عنہم مگر ابوبکر و عمر کی شان میں کچھ نہ کہہ سکے،اور اے رافضیو! تم نے ان سے اوپر جست کی کہ خود ابو بکر و عمر سے برأت کر بیٹھے تو اب کون رہ گیا خدا کی قسم کوئی باقی نہ رہا جس سے تم نے تبرا نہ کیا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع