30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لا اجد احدا فضلنی علی ابی بکر و عمر الاجلد تہ حد المفتری[1] |
میں جسے پاؤں گا کہ ابو بکر و عمر پر مجھے تفضیل دیتا ہے اسے مفتری کی حد اسّی کوڑے لگاؤں گا۔ |
ابن عساکر بطریق الزہری عن عبداﷲ بن کثیر راوی،امیر المؤمنین فرماتے ہیں:
|
لا یفضلنی احد علی ابی بکر و عمر الاجلد تہ جلدا وجیعا[2] |
جو مجھے ابو بکر و عمر سے افضل کہے گا اسے دردناك کوڑے لگاؤں گا۔ |
امام احمد مسند اور عدنی مائتین اور ابو عبید کتاب الغریب اور نعیم بن حماد فتن اور خثیمہ بن سلیمان طرابلسی فضائل الصحابہ اور حاکم مستدرك اور خطیب تلخیص المتشابہ میں راوی،امیر المؤمنین فرماتے ہیں:
|
سبق رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وصلی ابوبکر وثلث عمر ثم خطبتنا فتنۃ و یعفواﷲ عمن یشاء[3]، وللخطیب وغیرہ فھو ما شاء اﷲ زاد ھو فمن فضلنی علی ابی بکر وعمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما فعلیہ حد المفتری من الجلد و اسقاط الشہادۃ [4] |
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سبقت لے گئے اور ان کے دوسرے ابوبکر اور تیسرے عمر ہوئے،پھر ہمیں فتنے نے مضطرب کیا اور خدا جسے چاہے معاف فرمائے گا یا فرمایا جو خدا نے چاہا وہ ہوا تو جو مجھے ابو بکر و عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما پر فضیلت دے اس پر مفتری کی حد واجب ہے اسّی کوڑے لگائے جائیں اور گواہی کبھی نہ سنی جائے۔ |
ابو طالب عشاری بطریق الحسن بن کثیر عن ابیہ راوی،ایك شخص نے امیر المؤمنین علی مرتضٰی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کی:آپ خیر الناس ہیں۔فرمایا تو نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو دیکھا ہے؟ کہا نہ۔فرمایا:ابو بکر کو دیکھا؟کہا:نہ فرمایا:عمر کو دیکھا؟کہا:نہ،فرمایا:
|
اما انك لو قلت انك رأیت النبی |
سن لے اگر تو نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے دیکھنے |
[1] جامع الاحادیث عن الحکم بن حجل عن علی،حدیث ۷۷۴۷،دارالفکر بیروت،۱۶/ ۲۲۵،مختصر تاریخ دمشق لابن عساکر،ترجمہ ۲۲،عبداﷲ ابن ابی قحافہ،دارالفکر بیروت،۱۳/ ۱۱۰
[2] جامع الاحادیث بحوالہ ابن عساکر عن علی،حدیث ۷۷۲۳،دارالفکر بیروت،۱۶/ ۲۱۹،کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر عن علی،حدیث ۳۶۱۰۳،موسسۃ الرسالۃ،بیروت،۱۳/ ۹
[3] المستدرك علی الصحیحین کتاب معرفۃ الصحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم،مناقب ابی بکر،دارالفکر بیروت،۳/ ۶۸۔۶۷
[4] کنزالعمال بحوالہ خط فی تلخیص المتشابہ،حدیث ۳۶۱۰۲،موسسۃ الرسالہ،بیروت،۱۳/ ۹،جامع الاحادیث خط فی تلخیص المتشابہ،حدیث ۷۷۲۲،دارالفکر بیروت،۱۶/ ۲۱۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع