30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
طبرا نی معجم اوسط میں صلہ بن زفر سے راوی،جب امیر المؤمنین مولٰی علی کے سامنے لوگ ابوبکر صدیق کا ذکر کرتے،امیر المؤمنین فرماتے:
|
السباق یذکرون السابق یذکرون والذی نفسی بیدہ ما استبقنا الٰی خیر قط الاسبقنا الیہ ابوبکر[1] |
ابوبکر کا بڑی سبقت والے ذکر کر رہے ہیں کمال پیشی لے جانے والے کا تذکرہ کرتے ہیں قسم اس کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جب ہم نے کسی خیر میں پیشی چاہی ہے ابوبکر ہم سب پر سبقت لے گئے ہیں۔ |
حضرت صدیق کے بارے میں حضرت علی رائے:
ابو القاسم طلحی وابن ابی عاصم وابن شاہین واللالکائی سب اپنی اپنی کتاب السنہ میں اور عشاری فضائل صدیق اور اصبہانی کتاب الحجہ اور ابن عساکر تاریخ دمشق میں راوی،امیر المؤمنین کو خبر پہنچی کچھ لوگ انہیں ابو بکر و عمر(رضی اﷲ تعالٰی عنہما)سے افضل بتاتے ہیں منبر شریف پر تشریف لے گئے حمد و ثنائے الٰہی کے بعد فرمایا:
|
ایھا الناس بلغنی ان اقواما یفضلو نی علی ابی بکر و عمر ولو کنت تقدمت فیہ لعاقبت فیہ،فمن سمعتہ بعد ھذا الیوم یقول ھذا فھو مفتر،علیہ حد المفتری خیرالناس بعد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ابو بکر ثم عمر(زاد غیر الطلحی)ثم احدثنا بعضھم احدا ثا یقضی اﷲ فیھا ما یشاء [2] |
اے لوگو! مجھے خبر پہنچی کہ کچھ لوگ مجھے ابو بکر و عمر پر فضیلت دیتے ہیں اگر میں پہلے متنبہ کرچکا ہوتا تو اب سزا دیتا،آج کے بعد جسے ایسا کہتا سنوں گا وہ مفتری ہے،اس پر مفتری کی حد آئے گی،رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد سب آدمیوں سے بہتر ابوبکر ہیں،پھر عمر،پھر ان کے بعد ہم سے کچھ نئے امور واقع ہوئے کہ خدا ان میں جو چاہے گا حکم فرمائے گا۔ |
امام ابو عمران عبدالبراستیعاب میں حکم بن حجل سے اور امام ابو الحسن دارقطنی سنن میں روایت کرتے ہیں امیر المؤمنین مولا علی فرماتے ہیں:
[1] المعجم الاوسط،حدیث ۷۱۶۴،مکتبۃ المعارف الریاض،۸/ ۸۲،جامع الاحادیث بحوالہ طس،حدیث ۷۶۸۸،دارالفکر بیروت،۱۶/ ۲۰۹
[2] کنزالعمال بحوالہ ابن ابی عاصم و ابن شاہین واللالکائی والعشاری،حدیث ۳۶۱۴۳،موسسۃ الرسالۃ،بیروت،۱۳/ ۲۱،جامع الاحادیث ابن ابی عاصم و ابن شاہین واللالکائی والعشاری،حدیث ۷۷۳۵،دارالفکر بیروت،۱۶/ ۲۲۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع