30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
للامام النووی والذی رأیتہ فی منھاجہ ماقدمت فحسب۔(ن کی رمز امام نووی کی طرف ہے)اور جو میں نے ان کی کتاب منہاج میں دیکھا وہ میں نے پہلے بیان کردیا ہے اور بس۔ت)
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) قبل من امتہ التوبۃ بمجرد الاستغفار زاد میرك بخلاف الامم السابقۃ واستدل بقولہ تعالٰی فاستغفروا اﷲ واستغفرلھم الرسول[1] الآیۃ،وقد اقرہ العلامۃ القاری فی المرقاۃ وفی شرح الشفاء و شدد النکیر علیہ فی جمع الوسائل شرح الشمائل فقال ھذا قول لم یقل بہ احد من العلماء فہو خلاف الامۃ وقد قال وارکان التوبۃ علی ما قالہ العلماء ثلثۃ الندم والقلع والعزم علی ان لا یعود ولا احد جعل الاستغفار اللسانی شرطا للتوبۃ [2] الخ اقول رحم اﷲ مولانا القاری این فی کلام الحنفی ومیرك ان التوبۃ لا تقبل الا بالاستغفار فضلا عن اشتراط الاستغفار باللسان،انما ذکر ان مجرد الاستغفار کاف فی توبۃ ھذہ الامۃ من دون الزام امور اخر شاقۃ جدا کقتل الانفس وغیرہ مما الزمت بہ |
سے صرف استغفار پر توبہ قبول فرمائی،اس پر میرك نے "بخلاف الامم السابقہ"کا اضافہ کیا انہوں نے دلیل میں اﷲ تعالٰی کا قول"اﷲ تعالٰی سے استغفار کرو اور رسول ان کے لئے استغفار فرمائیں،الآیۃ"ذکر کیا،علامہ قاری نے مرقات اور شرح شفاء میں اس کو ثابت رکھا جبکہ جمع الوسائل میں اس پر سخت اعتراض کیا اور کہا کہ یہ بات علماء میں سے کسی نے نہ کی تو یہ امت کے خلاف ہے اور فرمایا کہ توبہ کے ارکان علماء کے بیان کے مطابق تین ہیں،ندامت اور چھوڑنا،اور آئندہ نہ کرنے کا عزم،اور کسی نے بھی زبانی استغفار کو توبہ کی شرط نہ کہا الخ،اقول:(میں کہتا ہوں)اﷲ تعالٰی ملا علی قاری پر رحم فرمائے حنفی اور میرك کے کلام میں استغفار کے بغیر توبہ کا قبول نہ ہونا کہاں ہے چہ جائیکہ زبانی استغفار کی شرط ہو، انہوں نے تو یوں کہا ہے کہ اس امت کی توبہ میں صرف استغفار کافی ہے دوسرے شاق امور لازم نہیں مثلًا جانوروں کو قتل کرنا وغیرہ،جو کچھ پہلی امتوں پر لازم کیا گیا (باقی برصفحہ آئندہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع