30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۸)توبہ سے مراد اہل توبہ ہیں [1]،ای علی وزان قولہ تعالٰی واسئل القریۃ(اﷲ تعالٰی کے قول واسئل القریۃ کے انداز پر) (ت)یعنی توابین کے نبی،مطالع المسرات مع زیادۃ منی(مطالع المسرات اور جو کچھ زیادہ ہے وہ میری طر ف سے)اقول: اب اوفق یہ ہے کہ توبہ سے مراد ایمان لیں [2] کما سوغہ المناوی ثم العزیزی فی شروح الجامع الصغیر(جیسا کہ علامہ مناوی نے پھر عزیزی نے الجامع الصغیر کی شرحوں میں ذکر فرمایا)(ت)حاصل یہ کہ تمام اہل ایمان کے نبی۔
(۹)ان کی امت توّابین ہیں،وصفِ توبہ میں سب امتوں سے ممتاز ہیں،قرآن ان کی صفت میں التائبون[3] فرماتا ہے،جمع الوسائل،جب گناہ کرتے ہیں تو بہ لاتے ہیں یہ امت کا فضل ہے اور امت کا ہر فضل اس کے نبی کی طرف راجع[4]،مطالع،اقول: و بہ فارق ماقبلہ فلیس فیہ حذف ولا یجوز(میں کہتا ہوں،اس سبب سے وہ پہلے سے جدا ہوا تو اس میں نہ حذف ہے اور نہ یہ جائز ہے۔ت)
(۱۰)ان کی امت کی توبہ سب امتوں سے زائد مقبول ہوئی[5]،حفنی علی الجامع الصغیر،کہ ان کی توبہ میں مجرد ندامت وترك فی الحال وعزم امتناع پر کفایت کی گئی،نبی الرحمۃصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان کے بوجھ اتار لئے اگلی امتوں کے سخت وشدید باران پر نہ آنے دئیے،اگلوں کی توبہ سخت سخت شرائط سے مشروط کی جاتی تھی گؤسالہ پرستی سے بنی اسرائیل کی توبہ اپنی جانوں کے قتل سے رکھی گئی کما نطق بہ القراٰن العزیز(جیسا کہ قرآن نے اس کو بیان فرمایا)(ت)جب ستّر ہزار آپس میں کٹ چکے اس وقت توبہ قبول ہوئی، شرح الشفاء للقاری عــــــہ والمرقاۃ ونسیم الریاض والفاسی ومجمع البحار۔برمز(ن)
|
عــــــہ: اقتصر الحنفی فی تقریر ھذا الوجہ علی ذکر الاستغفار فقط فقال لانہ |
حنفی نے اپنی تقریر میں اس وجہ پر استغفار کے ذکر کا اقتصار کیا تو فرمایا آپ کی امت (باقی اگلے صفحہ پر) |
[1] مطالع المسرات،ذکر اسماء النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مکتبہ نوریہ رضویہ،فیصل آباد ص ۱۰۱و ۱۰۲
[2] التیسیر شرح الجامع الصغیر،تحت حدیث انا محمد واحمد،مکتبہ امام الشافعی،ریاض،۱/ ۳۷۶
[3] جمع الوسائل فی شرح الشمائل باب ماجاء فی اسماء رسول اﷲ الخ،دارالمعرفۃ،بیروت،۲/ ۱۸۳
[4] مطالع المسرات ذکر اسماء النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مکتبہ نوریہ رضویہ،سکھر،ص۱۰۱
[5] حاشیۃ الحفنی علی الجامع الصغیر علٰی ہامش السراج المنیر المطبعۃ الازہریۃ المصریۃ،مصر،۲/ ۶۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع