30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
المقفی الحاشر[1] (الحدیث) |
انبیاء کے خاتم اور خلائق کو حشر دینے والے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم، |
بشارت میلاد الرسول:
ابونعیم بطریق شہر بن حوشب اور ابن عساکر بطریق مسیب بن رافع وغیرہ حضرت کعب احبار سے راوی،انہوں نے فرمایا، میرے باپ اعلم علمائے توراۃ تھے،اﷲ عزوجل نے جو کچھ موسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام پر اتارا ا س کا علم ان کے برابر کسی کو نہ تھا،وہ اپنے علم سے کوئی شے مجھ سے نہ چھپاتے،جب مرنے لگے مجھے بلا کر کہا:اے میرے بیٹے! تجھے معلوم ہے کہ میں نے اپنے علم سے کوئی چیز تجھ سے نہ چھپائی مگر ہاں دو ورق رکھے ہیں ان میں ایك نبی کا بیان ہے جس کی بعثت کا زمانہ قریب آپہنچا میں نے اس اندیشے سے تجھے ان دو ورقوں کی خبر نہ دی کہ شاید کوئی جھوٹا مُدعی نکل کھڑا ہو،تو اس کی پیروی کرلے یہ طاق تیرے سامنے ہے میں نے اس میں وہ اوراق رکھ کر اوپر سے مٹی لگادی ہے ابھی ان سے تعرض نہ کرنا،نہ انہیں دیکھنا جب وہ نبی جلوہ فرما ہو اگر اﷲ تعالٰی تیرا بھلا چاہے گا تو تو آپ ہی اس کا پیرو ہوجائے گا،یہ کہہ کر وہ مرگئے ہم ان کے دفن سے فارغ ہوئے مجھے ان دونوں ورقوں کے دیکھنے کا شوق ہر چیز سے زیادہ تھا،میں نے طاق کھولا ورق نکالے تو کیا دیکھتا ہوں کہ ان میں لکھا ہے:
|
محمد رسو ل اﷲ خاتم النبیین لا نبی بعدہ مولدہ بمکۃ ومھاجرہ بطیبۃ [2](الحدیث) |
محمد اﷲ کے رسول ہیں،سب انبیاء کے خاتم،ان کے بعد کوئی نبی نہیں،ان کی پیدائش مکے میں اور ہجرت مدینے کو صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ |
راہب کا استفسار:
بیہقی و طبرانی وابونعیم اور خرائطی کتاب الہواتف میں خلیفہ بن عبدہ سے راوی،میں نے محمد بن عدی بن ربیعہ سے پوچھا جاہلیت میں کہ ابھی اسلام نہ آیا تھا تمہارے باپ نے تمہارا نام محمد کیو نکر رکھا،کہا میں نے اپنے باپ سے اس کا سبب پوچھا،جواب دیا کہ بنی تمیم سے ہم چار آدمی سفر کو گئے تھے،ایك میں اور سفیان بن مجاشع بن دارم اور عمر بن ربیعہ اور اسامہ بن مالک،جب ملك شام میں پہنچے ایك تالاب پر اترے جس کے کنارے پیڑ تھے،ایك راہب نے
[1] الخصائص الکبرٰی باب ما جاء فی قلبہ الشریف صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دارالحدیثۃ شارع الجمہوریۃ بعابدین،۱/ ۱۶۲
[2] الخصائص الکبرٰی باب ما جاء فی قلبہ الشریف صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دارالحدیثۃ شارع الجمہوریۃ بعابدین،۱/ ۱۶۲،تہذیب تاریخ دمشق،باب تطہیر قلبہ من انعل الخ،داراحیاء التراث العربی،بیروت،۱/ ۳۷۹،الخصائص الکبرٰی بحوالہ ابی نعیم باب ذکرہ فی التوراۃ والانجیل،دارالحدیثہ شارع الجمہوریہ بعابدین،۱/ ۳۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع