30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فارق دین المسلمین اووقف فی تکفیر ھم اوشک[1] مختصرًا۔ |
یا ان کی تکفیر میں توقف یا شك کرنے والے کی تکفیر نہ کرنے والے کے کفر پر اجماع ہے،مختصرًا۔(ت) |
بزازیہ و درمختار وغیر ہما میں ہے:
|
من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر[2] |
جس نے اس کے کفر اور عذاب میں شك کیا وہ کافر ہے۔(ت) |
بلکہ شخص مذکور پر لازم و ضرور ہے کہ اپنے آپ ہی اپنے کفر و الحاد و زندقہ و ارتداد کا فتوٰی لکھے،آخر یہ تو بداہۃً ضرورۃً موافقین ومخالفین حتی کہ کفار و مشرکین سب کو معلوم و مسلم کہ حضرات حسنین اور ان کے والدین کریمین رضی اﷲ تعالٰی عنہم مسلمان تھے،قرآن عظیم پر ایمان رکھتے اور بلاشبہ اسے کلام اﷲ جانتے،اس کے ایك ایك حرف کو حق مانتے،اور اسی قرآن کا ارشاد ہے کہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں تو قطعًا وہ بھی حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو خاتم النبیین اعتقاد کرتے تو قطعًا یقینا اپنے آپ کو نبی ورسول نہ جانتے اور اس ادعائے ملعون کو باطل وملعون ہی مانتے کہ قول بالمتنافیین کسی عاقل سے معقول نہیں،اب یہ شخص کہ انہیں نبی ورسول مانتا ہے خود اپنے ہی ساختہ رسولوں کو کاذب و مبطل جانتا ہے اور رسولوں کی تکذیب کفرِ ظاہر ہے تو خود ہی اپنے عقیدے کی رو سے کافر ہے،غرض انہیں رسول کہہ کر اعتقاد ختم نبوت میں سچا جانا تو اس ایمانی عقیدے کا منکر ہو کر کافر ہوا،اور جھوٹا مانا تو اپنے ہی رسولوں کی آپ تکذیب کر کے کافر ہوا مفر کدھر،ولا حول ولا قوّۃ الاّ باﷲ العزیز الاکبر۔
ولید کے مقابل ذکرِ احادیث ونصوص علمائے قدیم وحدیث کا کیا موقع کہ جو نص قطعی قرآن کو نہ مانے حدیث و علماء کی کیا قدر جانے،مگر بحمد اﷲ تعالٰی مسلمانوں کے لئے متعدد منافع ظاہر و بین ہیں،قرآن وحدیث دونوں ایمانِ مومن ہیں،احادیث کا بار بار تکرار اظہار دلوں میں ایمان کی جڑ جمائے گا،آیہ کریمہ میں وساوسِ ملعونہ
ف:اہل بیت کرام خواہ کسی امتی کو نبی ماننے والا خود اپنے اقرار سے بھی کافر ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع