30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یا من یصلی علیہ ھو وملٰئکتہ صل علیہ وعلٰی الہ و صحبہ وبارك وسلم تسلیما اٰمین،ربّ انّی اعوذبك من ھمزات الشیطٰین واعوذبك ربّ ان یحضرون و صلی اﷲ تعالٰی علٰی خاتم المرسلین اول الانبیاء خلقًا واٰخرھم بعثًا واٰلہ وصحبہ والتابعین ولعن وقتل واخزی وخذل مردۃ الجن وشٰیطین الانس و اعاذنا ابدا من شرھم اجمعین اٰمین۔ |
اے وہ ذات جس پر اﷲ تعالٰی اور اس کے فرشتوں کے درود اور اس کے آل واصحاب پر اور سلام کامل۔آمین۔اے میرے رب میں تیری پناہ مانگتا ہوں شیاطین کے وسوسوں سے،اور اے میرے رب میں تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں،اور صلوٰۃ اﷲ خاتم المرسلین پر جو تمام انبیاء سے پیدائش میں اول اور بعثت میں ان سے آخر اور اس کی آل واصحاب اور تابعین پر،اور لعنت اور ہلاکت،رسوائی اور ذلت ہو اﷲ تعالٰی کی طرف سے سرکش جنّوں اور انسانی شیطانوں پر،اور ان سب کے شر سے ہمیشہ ہمیں پناہ دے،آمین۔ت) |
اﷲ عزوجل سچا اور اس کا کلام سچا،مسلمان پر جس طرح لا الٰہ الا اﷲ ماننا اﷲ سبحٰنہ وتعالٰی کو احد صمد لا شریك لہ جاننا فرضِ اوّل ومناط ایمان ہے یونہی محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو خاتم النبیین ماننا ان کے زمانے میں خواہ ان کے بعد کسی نبی جدید کی بعثت کو یقینا محال وباطل جاننا فرض اجل وجزء ایقان ہے "وَلٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ؕ"[1] (ہاں اﷲ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے۔ت)نص قطعی قرآن ہے،اس کا منکر نہ منکر بلکہ شبہ کرنے والا نہ شاك کہ ادنٰی ضعیف احتمال خفیف سے توہّم خلاف رکھنے والا قطعًا اجماعًا کافر ملعون مخلد فی النیران ہے،نہ ایسا کہ وہی کافر ہو بلکہ جو اس کے عقیدہ ملعونہ پر مطلع ہو کر اسے کافر نہ جانے وہ بھی کافر،جو اس کے کافر ہونے میں شك و تردّد کو راہ دے وہ بھی کافر بین الکافر جلی الکفران ہے،ولید پلید جس کا قول نجس تراز بول،سوال میں مذکور،ضرور ولی ہے بیشك ضرور مگر حاشانہ ولی الرحمٰن بلکہ عدو الرحمن ولی الشیطان ہے،یہ جو میں کہہ رہا ہوں میرا فتوٰی نہیں اﷲ واحد قہار کا فتوٰی ہے،خاتم الانبیاء الاخیار کا فتوٰی ہے،علی مرتضٰی وبتول زہرا وحسن مجتبٰی وشہید کربلا تمام ائمہ اطہار کا فتوٰی ہے صلی اﷲ تعالٰی علٰی سید ھم ومولاھم وعلیھم وسلّم۔شفاء شریف واعلام بقواطع الاسلام میں ہے:
|
یکفر ایضا من کذب بشیئ مما صرح |
نیز تکفیر کی جائیگی جس نے قرآن کے صریح حکم یا خبر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع