30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شُبہ دوم:لَعَنَ اﷲُ الْیھوْدَ وَالنَّصَارٰی[1]اﷲ تعالٰی یہود و نصاری پر لعنت فرمائے۔اقول: وَالْمِرْزَائِیۃ لَعَنَھُمْ لَعْنًا کَبِیرًا (میں کہتا ہوں کہ مرزائیوں پر بھی بڑی لعنت ہو)اوّلًا: اَنْبِیائِھِمْ [2]میں اضافت استغراق کے لئے نہیں کہ موسٰی سے یحیٰی علیہما الصلوٰۃ والسلام تك ہر نبی کی قبر کو یہود و نصارٰی سب نے مسجد کرلیا ہو،یہ یقینا غلط ہے،جس طرح "وَقَتْلِہِمُ الۡاَنْۢبِیَآءَ بِغَیۡرِ حَقٍّ "[3] (انہوں نے انبیاء کو ناحق شہید کیا۔ت)میں اضافت ولام کوئی استغراق کا نہیں کہ نہ سب قاتل اور نہ سب انبیاء شہید کئے، قال اﷲ تعالٰی:
|
"فَفَرِیۡقًا کَذَّبْتُمْ ۫ وَفَرِیۡقًا تَقْتُلُوۡنَ﴿۸۷﴾"[4] |
(انبیاء کے ایك گروہ کو تم نے جھٹلایا اور ایك گروہ کو قتل کرتے ہو۔ت) |
اور جب استغراق نہیں تو بعض میں مسیح علیہ الصلوٰۃ والسّلام کا داخل کرلینا ادّعائے باطل و مردود ہے،یہود کے سب انبیاء نصارٰی کے بھی انبیاء تھے،یہود و نصارٰی کا ان میں بعض قبورِ کریمہ کو(مسجد بنا لینا)صدقِ حدیث کے لئے بس اور اس سے زیادہ مرتدین کی ہوس۔فتح الباری شرح صحیح بخاری میں یہ اشکال ذکر کر کے کہ نصارٰی کے انبیاء کہاں ہیں،ان کے تو صرف ایك عیسٰی نبی تھے ان کی قبر نہیں،ایك جواب یہی دیا جو بتوفیقہ تعالٰی ہم نے ذکر کیا کہ:
|
اوالمراد بالا تخاذ اعم من ان یکون ابتداعًا او اتباعًا فالیہود ابتدعت والنصارٰی اتبعت،ولا ریب ان النصارٰی تعظم قبور کثیر من الانبیاء الذین تعظمھم الیہود[5] |
انبیاء کی قبروں کو مسجد بنا نا عام ہے کہ ابتدًا ہو یا کسی کی پیروی میں،یہودیوں نے ابتداء کی اور عیسائیوں نے پیروی کی،اور اس میں شك نہیں کہ نصارٰی بہت سے ان انبیاء کی قبروں کی تعظیم کرتے ہیں جن کی یہودی تعظیم کرتے ہیں۔ |
ثانیا:امام حافظ الشان(ابن حجر)نے دوسرا جواب یہ دیا کہ اس روایت میں اقتصار واقع ہوا،واقع یہ ہے کہ یہود اپنے انبیاء کی قبور کو مساجد کرتے اور نصارٰی اپنے صالحین کی قبروں کو،ولہٰذا صحیح بخاری حدیث ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ میں دربارہ قبور انبیاء تنہا یہود کا نام ہے:
|
ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال قاتل اﷲ الیھود اتخذوا قبور |
فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ا ﷲ تعالٰی یہودیوں کو ہلاك فرمائے انہوں نے اپنے |
[1] صحیح البخاری کتاب الجنائز باب مایکرہ من اتخاذ المسجد علی القبور،قدیمی کتب خانہ کراچی،۱/ ۱۷۷
[2] صحیح البخاری کتاب الجنائز باب مایکرہ من اتخاذ المسجد علی القبور،قدیمی کتب خانہ کراچی،۱/ ۱۷۷
[3] القرآن الکریم ۴/ ۱۵۵
[4] القرآن الکریم ۲/ ۸۷
[5] فتح الباری شرح صحیح بخاری،کتاب الصلٰوۃ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۴۴۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع