30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مزہ چکھنا ہے۔ت)پھر جب یہ" اَحْیاء غَیر اَمْوَاتٍ" ہیں وہ یقینا ان سے لاکھوں درجے زائد "اَحْیا ء غَیر امواتٍ" ہیں نہ کہ "اَمْوات غَیر اَحْیاءٍ"۔
سادسًا: آیہ کریمہ میں "وَھُمْ قَدْ خُلِقُوْا" بصیغہ ماضی نہیں بلکہ "وَّہُمْ یُخْلَقُوۡنَ ﴿ؕ۲۰﴾ "[1]بصیغہ مضارع ہے کہ دلیل تجدّد واستمرار ہو یعنی بنائے گھڑے جاتے ہیں اور نئے نئے بنائے گھڑے جائیں گے،یہ یقینا بُت ہیں۔
سابعًا: آیہ کریمہ میں ان سے کسی چیز کی خلق کا سلبِ کُلّی فرمایا کہ "لَا یَخْلُقُوۡنَ شَیْـًٔا"[2] (وہ کوئی چیز نہیں بناتے۔ت) اور قرآن عظیم نے عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے بعض اشیاء کی خلق ثابت فرمائی،"اِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّیۡنِ کَہَیۡــَٔۃِ الطَّیۡر"[3] (اور جب تو مٹی سے پرند کی مورت بناتا)اور ایجاب جزئیِ نقیض سلبِ کُلیّ ہے تو عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام پر صادق نہیں،نامناسب سے قطع نظر ہو تو اَمْوَات قضیہ مطلقہ عامہ ہے یا دائمہ بر تقدیر ثانی یقینا انس وجن وملك سے کوئی مراد نہیں ہوسکتا کہ ان کیلئے حیات بالفعل ثابت ہے نہ کہ ازل سے ابد تك دائم موت،برتقدیر اوّل قضیہ کا اتنا مفاد کہ کسی نہ کسی زمانے میں ان کو موت عارض ہو،یہ ضرور عیسٰی وملائکہ علیہم الصلوٰۃ والسلام سب کے لئے ثابت،بیشك ایك وقت وہ آئے گا کہ مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام وفات پائیں گے اور روز قیامت ملائکہ کو بھی موت ہے،اس سے یہ کب ثابت ہوا کہ موت ہوچکی،ورنہ "ید عُوْنَ مِنْ دُوْنِ اﷲِ" میں ملائکہ بھی داخل ہیں،لازم کہ وہ بھی مر چکے ہوں،اور یہ باطل ہے۔تفسیر انوارالتنزیل میں ہے:
|
(اَمْوَات)حالًا اوماٰلًا غیر احیاءٍ بالذَّاتِ لیتناول کُلَّ معبودٍ[4] |
(مردے حال میں یا آئندہ غیر زندے بالذات تاکہ ہر معبود کو شامل ہو۔ت) |
تفسیر عنایۃ القاضی میں ہے:
|
فالمراد مالا حٰیوۃ لہ سواء کان لہ حٰیوۃ ثم مات کعزیر او سیموت کعیسٰی والملٰئکۃ علیھم السلام اولیس من شانہ الحٰیوۃ کالا صنام[5] |
یعنی ان اموات سے عام مراد ہے خواہ اس میں حیات کی قابلیت ہی نہ ہو جیسے بت،یا حیات تھی اور موت عارض ہوئی جیسے عزیر،یا آئندہ عارض ہونے والی ہے جیسے عیسٰی وملائکہ علیہم الصلوٰۃ والسلام ۔ |
منکرین دیکھیں کہ ان کا شبہ ہر پہلو پر مردود ہے،وﷲ الحمد۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع