30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کا حکم صاف ہے۔
(۵)مسیح سے مثیل مسیح مراد لینا تحریف نصوص ہے کہ عادتِ یہود ہے،بے دینی کی بڑی ڈھال یہی ہے کہ نصوص کے معنی بدل دیں "یُحَرِّفُوۡنَ الْکَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِہٖ ۙ "[1](اﷲ کی باتوں کو ان کے ٹھکانوں سے بدل دیتے ہیں۔ت)ایسی تاویل گھڑنی نصوصِ شریعت سے استہزاء اور احکام وارشادات کو درہم برہم کر دینا ہے،جس جگہ جس شئی کا ذکر آیا،کہہ سکتے ہیں وہ شیئ خود مراد نہیں اس کا مثیل مقصود ہے،کیا یہ اس کی نظیر نہیں جو اباحیہ مُلا عِنہ کہا کرتے ہیں کہ نماز و روزہ فرض ہے نہ شراب و زنا حرام بلکہ وہ کچھ اچھے لوگوں کے نام ہیں جن سے محبت کا ہمیں حکم دیا گیا اور یہ کچھ بدوں کے جن سے عداوت کا۔
(۶)بفرضِ باطل اینہم برعَلَم پھر اس سے قادیان کا مرتد،رسول اﷲ کا مثیل کیونکر بن بیٹھا؟ کیا اس کے کفر،اس کے کذب،اس کی وقاحتیں،اس کی فضیحتیں،اس کی خباثتیں،اس کی ناپاکیاں،اس کی بیباکیاں کہ عالم آشکار ہیں،چھپ سکیں گی؟ اور جہان میں کوئی عقل و دین والا ابلیس کو جبریل کا مثیل مان لے گا؟ اس کے خرو ارِہزار ہا کفریات سے مُشتے نمونہ،رسائل السوء والعقاب علی المسیح الکذاب وقہر الدیان علٰی مرتدٍ بقادیان و نور الفرقان و باب العقائد والکلام وغیرہا میں ملا حظہ ہوں کہ یہ نبیوں کی علانیہ تکذیب کرنے والا،یہ رسولوں کو فحش گالیاں دینے والا،یہ قرآن مجید کو طرح طرح رد کرنے والا،مسلمان بھی ہونا محال،نہ کہ رسول اﷲ کی مثال،قادیانیوں کی چالاکی کہ اپنے مسیلمہ کے نامسلم ہونے سے یوں گریز کرتے اور اس کے ان صریح ملعون کفروں کی بحث چھوڑ کر حیات و وفات مسیح کا مسئلہ چھیڑتے ہیں۔
(۷)مسیح رسول اﷲ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مشہور اوصافِ جلیلہ اور وہ کہ قرآن عظیم نے بیان کئے،یہ تھے کہ اﷲ عزّوجل نے ان کو بے باپ کے کنواری بتول کے پیٹ سے پیدا کیا نشانی سارے جہان کے لئے:
|
"قَالَتْ اَنّٰی یَکُوۡنُ لِیۡ غُلٰمٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیۡ بَشَرٌ وَّ لَمْ اَکُ بَغِیًّا ﴿۲۰﴾ قَالَ کَذٰلِکِ ۚ قَالَ رَبُّکِ ہُوَ عَلَیَّ ہَیِّنٌ ۚ وَ لِنَجْعَلَہٗۤ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ وَ رَحْمَۃً مِّنَّا ۚ وَکَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا ﴿۲۱﴾ "[2] |
بولی میرے لڑکا کہاں سے ہوگا،مجھے تو کسی آدمی نے ہاتھ نہ لگایا،نہ میں بدکار ہوں،کہا یونہی ہے،تیرے رب نے فرمایا ہے کہ یہ مجھے آسان ہے اور اس لئے کہ ہم اسے لوگوں کے واسطے نشانی کریں اور اپنی طرف سے ایك رحمت اور یہ امر ٹھہر چکا ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع