30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نزول حضرت عیسٰی علیہ السلام اہلسنّت کا اجماعی عقیدہ ہے)نہ ہرگز وفاتِ مسیح ان مرتدین کو مفید،فرض کر دم کہ رب عزوجل نے ان کو اس وقت وفات ہی دی،پھر اس سے انکا نزول کیونکر ممتنع ہوگیا؟ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی موت محض ایك آن کو تصدیق وعدہ الہٰیہ کے لئے ہوتی ہے،پھر وہ ویسے ہی حیاتِ حقیقی دنیاوی و جسمانی سے زندہ ہوتے ہیں جیسے اس سے پہلے تھے،زندہ کا دوبارہ تشریف لانا کیا دشوار؟ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
اَلْاَ نْبِیاءُ اَحْیاء فِیْ قُبُوْرِھِمْ یصلُّوْنَ[1] |
انبیاء زندہ ہیں اپنی قبروں میں،نماز پڑھتے ہیں۔ |
(۲)معاذاﷲ کوئی گمراہ بددین یہی مانے کہ ان کی وفات اوروں کی طرح ہے جب بھی ان کا دوبارہ تشریف لانا کیوں محال ہوگیا؟ وعدہ "وَحَرٰمٌ عَلٰی قَرْیَۃٍ اَہۡلَکْنٰہَاۤ اَنَّہُمْ لَایَرْجِعُوۡنَ ﴿۹۵﴾ "[2](اور حرام ہے اس بستی پر جسے ہم نے ہلاك کردیا کہ پھر لوٹ کر آئیں۔ت)ایك شہر کے لئے ہے،بعض افراد کا بعد موت دنیا میں پھر آنا خود قرآن کریم سے ثابت ہے جیسے سیدنا عزیر علیہ الصلوٰۃ والسلام۔قال اﷲ تعالٰی:
|
"فَاَمَاتَہُ اللہُ مِائَۃَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَہٗؕ"[3] |
(تو اﷲ نے اسے مردہ رکھا سو برس،پھر زندہ کردیا۔ت) |
چاروں طائرانِ خلیل علیہ الصلوٰۃ والسلام،قال اﷲ تعالٰی:
|
" ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰی کُلِّ جَبَلٍ مِّنْہُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُہُنَّ یَاۡتِیۡنَکَ سَعْیًاؕ "[4] |
(پھر ان کا ایك ایك ٹکڑا ہر پہاڑ پر رکھ دے،پھر انہیں بلا،وہ تیرے پاس چلے آئیں گے دوڑتے ہوئے۔ت) |
ہاں مشرکین ملاعنہ منکرین بعث اسے محال جانتے ہیں اور دربارہ مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام قادیانی بھی اس قادر مطلق عزّ جلالہ کو معاذ اﷲ صراحۃً عاجز مانتا اور دافع البلاء کے صفحہ ۳۴ پر یوں کفر بکتا ہے:خدا ایسے شخص کو پھر دنیا میں نہیں لا سکتا جس کے پہلے فتنے ہی نے دنیا کو تباہ کردیا ہے[5]۔مشرك و قادیانی دونوں کے رد میں اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
|
"اَفَعَیِیۡنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِؕ بَلْ ہُمْ فِیۡ لَبْسٍ مِّنْ |
(تو کیا ہم پہلی بار بنا کر تھك گئے بلکہ وہ نئے بننے سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع