30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرنے میں ان کا نمبر ایسا کم رہا کہ قریب قریب ناکام رہے،جب یہ اعتقاد رکھا جائے کہ ان پرندوں میں صرف جھوٹی حیات جھوٹی جھلك نمودار ہوجاتی تھی تو ہم اس کو تسلیم کرچکے ہیں،ممکن ہے کہ عمل الترب(مسمریزم)کے ذریعہ سے پھونك میں وہی قوت ہوجائے جو اس دخان میں ہوتی ہے جس سے غبارہ اوپر کو چڑھتا ہے۔مسیح جو جو کام اپنی قوم کو دکھلاتا تھا وہ دعا کے ذریعہ سے ہرگز نہ تھے بلکہ وہ ایسے کام اقتداری طور پر دکھاتا تھا۔خدا تعالٰی نے صاف فرمادیا ہے کہ وہ ایك فطری طاقت تھی جو ہر فردِ بشر میں ہے،مسیح کی کچھ خصوصیت نہیں،چنانچہ اس کا تجربہ اس زمانے میں ہورہا ہے،مسیح کے معجزات تو اس تالاب کی وجہ سے بے رونق و بے قدر تھے جو مسیح کی ولادت سے پہلے مظہرِ عجائبات تھا جس میں ہر قسم کے بیمار اور تمام مجذوم مفلوج مبروص ایك ہی غوطہ مار کر اچھے ہوجاتے تھے لیکن بعض بعد کے زمانوں میں جو لوگوں نے اس قسم کے خوارق دکھلائے،اس وقت تو کوئی تالاب بھی نہ تھا،یہ بھی ممکن عــــــہ ہے کہ مسیح ایسے کام کے لئے اس تالاب کی مٹی لاتا تھا جس میں روح القدس کی تاثیر تھی،بہرحال یہ معجزہ صرف ایك کھیل تھا جیسے سامر ی کا گوسالہ۔
مسلمانو! دیکھا کہ اس دشمن اسلام نے اﷲ عزوجل کے سچے رسول کو کیسی مغلظ گالیاں دیں،کون سی ناگفتنی اس ناشد نی نے ان کے حق میں اٹھا رکھی،ان کے معجزوں کو کیسا صاف صاف کھیل اور لہو ولعب و شعبدہ و سحر ٹھہرایا،ابرائے اکمہ وابرص کو مسمریزم پر ڈھالا اور معجزہ پرند میں تین احتمال پیدا کئے،بڑھئی کی کل یا مسمریزم یا کراماتی تالاب کا اثر،اور اسے صاف سامری کا بچھڑا بتادیا بلکہ اس سے بدتر کہ سامری نے جو اسپِ جبریل کی خاك سُم اٹھائی وہ اسی کو نظر آئی دوسرے نے اطلاع نہ پائی،قال اﷲ تعالٰی:
|
"قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ یَبْصُرُوۡا بِہٖ فَقَبَضْتُ قَبْضَۃً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوۡلِ فَنَبَذْتُہَا وَکَذٰلِکَ سَوَّلَتْ لِیۡ نَفْسِیۡ ﴿۹۶﴾"[1] |
سامری نے کہا میں نے وہ دیکھا جو انہیں نظر نہ آیا تو میں نے اسپِ رسول کی خاك قدم سے ایك مٹھی لے کر گوسالے میں ڈال دی کہ وہ بولنے لگا نفسِ امّارہ کی تعلیم سے مجھے یونہی بھلا معلوم ہوا۔ |
مگر مسیح کاکرتب ایك دست مال تھا جس سے دنیا جہان کوخبر تھی،مسیح پیدا بھی نہ ہوئے تھے جب تالاب کی کرامات شہرہ آفاق تھیں،تو اﷲکا رسول یقینا اس کافر جادوگر سے بہت کم رہا،اور مزہ یہ ہے کہ مسیح کے وقت میں بھی ایسے شعبد ے تماشے بہت ہوتے تھے پھرمعجزہ کدھر سے ہوا،اﷲ اﷲ رسولوں کو گالیاں،معجزات کے انکار،
عــــــہ:یہ تیسرا پہلو ہے کہ حضرت مسیح اس مٹی کے پرند میں تالاب کی مٹی ڈال دیتے جس میں روح القدس کا اثر تھا،اس کے زور سے حرکت کرتا جیسے سامری نے اسپِ روح القدس کے پاؤں تلے کی خاك بچھڑے میں ڈال دی بولنے لگا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع