30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کفر دہم:ازالہ صفحہ ۶۲۹ پر لکھتا ہے:ایك زمانے میں چار سو نبیوں کی پیشگوئی غلط عــــــہ ہوئی اور وہ جھوٹے۔[1] یہ صراحۃً انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسّلام کی تکذیب ہے عام اقوام کفار لعنہم اﷲ کا کفر حضرت عزت عزّ جلالہ نے یوں ہی تو بیان فرمایا:
|
"کَذَّبَتْ قَوْمُ نُوۡحِۣ الْمُرْسَلِیۡنَ ﴿۱۰۵﴾ۚۖ"[2] "کَذَّبَتْ عَادُۨ الْمُرْسَلِیۡنَ ﴿۱۲۳﴾ۚۖ"[3]"کَذَّبَتْ ثَمُوۡدُ الْمُرْسَلِیۡنَ ﴿۱۴۱﴾ۚۖ "[4] "n کَذَّبَتْ قَوْمُ لُوۡطِۣ الْمُرْسَلِیۡنَ ﴿۱۶۰﴾ۚۖ"[5] "کَذَّبَ اَصْحٰبُ لْـَٔـیۡکَۃِ الْمُرْسَلِیۡنَ ﴿۱۷۶﴾ۚۖ "[6] |
(نوح کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا،عاد نے رسولوں کو جھٹلایا،ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا،لوط کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا،بَن والوں نے رسولوں کو جھٹلایا۔ت) |
ائمہ کرام فرماتے ہیں،جو نبی پر اس کی لائی ہوئی بات میں کذب جائز ہی مانے اگرچہ وقوع نہ جانے باجماع کفر ہے نہ کہ معاذ اﷲ چارسو انبیاء کا اپنے اخبار بالغیب میں کہ و ہ ضرور اﷲ ہی کی طرف سے ہوتا ہے۔واقع میں جھوٹا ہوجانا،شفا شریف میں ہے:
|
من دان بالوحدانیۃ وصحۃ النبوۃ و نبوۃ بنبیناصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ولکن جوز علی الانبیاء الکـــذب فیمــا اتوا بہ ادعی فی ذٰلك المصلحۃ بزعمہ اولم یدعھا فہوکافر باجماع[7] |
یعنی جو اﷲ تعالٰی کی وحدانیت نبوّت کی حقانیت ہمارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نبوت کا اعتقاد رکھتا ہو بایں ہمہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام پر انکی باتوں میں کذب جائز مانے خواہ بزعمِ خود اس میں کسی مصلحت کا ادعا کرے یا نہ کرے ہر طرح بالاتفاق کافر ہے۔ |
عــــــہ:یہ اس کی پیش بندی ہے کہ یہ کذّاب اپنی بڑ میں ہمیشہ پیشگوئیاں ہانکتا رہتا ہے اور بعنایت الٰہی وہ آئے دن جھوٹی پڑا کرتی ہیں تو یہاں یہ بتانا چاہتا ہے کہ پیشگوئی غلط پڑی کچھ شان نبوت کے خلاف نہیں معاذ اﷲ اگلے انبیاء میں بھی ایسا ہوتا ہے۔(اینہم برعلم)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع