30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قتلہ و ثواب ذٰلک،قال حبیب بن الربیع لان ادعاء التاویل فی لفظ صراح لا یقبل[1]۔ |
اس پر جو ثواب ملے گا اس میں میں تمہارا شریك ہوں،(یعنی تم حاکم شرع کے حضور اس پر شہادت دو اور میں بھی سعی کروں گا کہ ہم تم دونوں بحکم حاکم اسے سزائے موت دلانے کا ثوابِ عظیم پائیں)امام حبیب بن ربیع نے فرمایا یہ اس لئے کہ کھلے لفظ میں تاویل کا دعوٰی مسموع نہیں ہوتا۔ |
مولانا علی قاری شرح شفاء میں فرماتے ہیں:
|
ثم قال انما اردت برسول اﷲ العقرب فانہ ارسل من عندا لحق وسلط علی الخلق تاویلا للرسالۃ العرفیۃ بالارادۃ اللغویۃ وھو مردود عندالقواعد الشرعیۃ[2] |
یعنی وہ جو اس مردك نے کہا کہ میں نے بچّھو مراد لیا،اس طر ح اس نے رسالت عرفی کو معنی لغوی کی طرف ڈھالا کہ بچّھو کو بھی خدا ہی نے بھیجا اور خلق پر مسلّط کیا ہے،اور ایسی تاویل قواعدِ شرع کے نزدیك مردود ہے۔ |
علامہ شہاب خفاجی نسیم الریاض میں فرماتے ہیں:
|
ھذا حقیقۃ معنی الارسال وھذا مما لا شك فی معنا ہ وانکارہ مکابرۃ لکنہ لا یقبل من قائلہ وادعاؤہ انہ مرادہ لبعدہ غایۃ البعد،وصرف اللفظ عن ظاھرہ لا یقبل کما لو قال انت طالق قال اردت محلولۃ غیر مربوطۃ لا یلتفت لمثلہ و یعد ھذیانا ۱ ھ ملتقطا۔[3] |
یعنی یہ لغوی معنی جن کی طرف اس نے ڈھالا ضرور بلا شك حقیقی معنی ہیں اس کا انکار ہٹ دھرمی ہے بایں ہمہ قائل کا ادعا مقبول نہیں کہ اس نے یہ معنی لغوی مراد لئے تھے،اس لئے کہ یہ تاویل نہایت دور ازکار ہے اور لفظ کا اس کے معنی ظاہر سے پھیرنا مسموع نہیں ہوتا جیسے کوئی اپنی عورت کو کہے تو طالق ہے اور کہے میں نے تو یہ مراد لیا تھا کہ تو کھلی ہوئی ہے بندھی نہیں ہے(کہ لغت میں طالق کشادہ کو کہتے ہیں)تو ایسی تاویل کی طرف التفات نہ ہوگا اور اسے ہذیان سمجھا جائے گا۔ |
ثانیا:وہ بالیقین ان الفاظ کو اپنے لئے مدح و فضل جانتا ہے،نہ ایك ایسی بات کہ
دندان تو جملہ در دہانند چشمان تو زیر ابرو انند
(تیرے تمام دانت منہ میں ہیں،تیری آنکھیں ابرو کے نیچے ہیں۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع