30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کفر سوم:دافع البلاء مطبوعہ ریاض ہند صفحہ ۹ پر لکھتا ہے"سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا [1]
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)واسطے حدیث محدثین آئی۔انھیں کے صدقے میں ہم نے اس پر اطلاع پائی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
|
قد کان فیما مضی قبلکم من الامم اناس محدثون فان یکن فی امتی منھم احد فانہ عمر بن الخطاب [2] رواہ احمد والبخاری عن ابی ھریرۃ واحمد ومسلم والترمذی والنسائی عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔ |
اگلی امتوں میں کچھ لوگ محدث ہوتے تھے یعنی فراست صادقہ و الہام حق والے،اگر میری امت میں ان میں سے کوئی ہوگا تووہ ضرور عمر بن خطاب ہے رضی اﷲ تعالٰی عنہ(اسے احمد اور بخاری نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اور احمد،مسلم،ترمذی اور نسائی نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کیا۔ت) |
فاروق اعظم نے نبوت کے کوئی معنی نہ پائے صرف ارشاد فرمایا:
|
لوکان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب [3] رواہ احمد و الترمذی والحاکم عن عقبۃ بن عامر والطبرانی فی الکبیر عن عصمۃ بن مالك رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔ |
اگر میرے بعد کوئی نبی ہوسکتا تو عمر ہوتا،(اسے احمد و ترمذی اور حاکم نے عقبہ بن عامر سے اور طبرانی نے کبیر میں عصمۃ بن مالك رضی اﷲتعالٰی عنہما سے روایت کیا ہے،ت) |
مگر پنجاب کا محدث حادث کہ حقیقۃً نہ محدث ہے نہ محدث،یہ ضرور ایك معنی پر نبی ہوگیا الا لعنۃ اﷲ علی الکٰذبین (خبردار، جھوٹوں پر خدا کی لعنت۔ت)والعیاذ باﷲ رب العٰلمین۔
[1] دافع البلاء مطبوعہ ضیاء الاسلام قادیان ص ۲۶
[2] صحیح البخاری مناقب عمر بن خطاب رضی اﷲ تعالٰی عنہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۲۱،جامع الترمذی مناقب عمر بن خطاب رضی اﷲ تعالٰی عنہ امین کمپنی مکتبہ رشیدیہ دہلی ۲/ ۲۱۰
[3] صحیح البخاری مناقب عمر بن خطاب رضی اﷲ تعالٰی عنہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۲۰،المستدرك للحاکم معرفتہ الصحابۃ دارالفکر،بیروت ۳/ ۸۵،جامع الترمذی مناقب عمر بن خطاب رضی اﷲ تعالٰی عنہ امین کمپنی دہلی ۲/ ۲۰۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع