30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرے،ان کی قبر پر شامیانہ کھڑا کرے،وہاں کے گردوپیش کے جنگل کا ادب کرے اس پر شرك ثابت ہے،[1]۔
صفحہ ۲۵"جو کوئی کسی نبی ولی بھوت پری کو ایسا جانے وہ مشرك ہے"[2]
صفحہ ۵۱ کسی مخلوق کے نام کا کردیجئے ولی نبی بھوت پری کا سب حرام ہے اور ناپاك او رکرنیوالے پر شرك ثابت [3]
وغیر ذلك مقامات۔تو اس کاکلام قطعا ماسوی اﷲ کو عام اور خود حضرات انبیاء واولیاء کے بالخصوص نام انھیں بیانات ص ۹،۱۱،۱۲ کے ثبوت میں اس نے پانچ فصلیں باندھیں جن میں سے فصل اول ص ۲۲ میں کہا:"ہماراخالق جب اﷲ ہے تو ہم کو بھی چاہئے اپنے ہر کاموں پر اسی کو پکاریں اور کسی سے ہم کو کیا کام،جیسے جو کوئی ایك بادشاہ کا غلام ہوچکا وہ اپنے ہر کام کا علاقہ اسی سے رکھتا ہے دوسرے بادشاہ سے بھی نہیں رکھتاا ور کسی چوڑھے چمار کا کیا ذکر [4]"
ص ۱۶ میں کہا:"جس نے اﷲ کا حق مخلوق کو دیا توبڑے کا حق ذلیل سے ذلیل کو دیا۔جیسے بادشاہ کا تاج چما ر کے سر پر،اور یہ یقین جان لینا چاہئے کہ ہر مخلوق بڑاہو یا چھوٹا اﷲ کی شان کے آگے چمار سے بھی ذلیل ہے [5]"
فصل سوم ص ۳۵ پرکہا:"ایسے عاجز لوگوں کو پکارنا کہ کچھ فائدہ اور نقصان نہ پہنچا سکتے۔محض بے انصافی ہے کہ ایسے بڑے شخص کا مرتبہ ایسے ناکارے لوگوں کو ثابت کیجئے [6]"
فصل پنجم ص ۷۴ پر کہا:"سب انبیاء واولیاء اس کے رو برو ایك ذرہ ناچیز سے کمتر ہیں [7]"
ان صریح ملعون کلاموں کی سند میں وہ عبارت پیش کرنی کیسی شدید کھلی بے ایمانی ہے،مخدوم صاحب نے اگر کہا تو دنیا اور دنیا کی چیزوں کوکہا،جن کو اﷲ سے علاقہ نہیں بیشك وہ مینگنی سے حقیر تر ہیں۔اور اس گمراہ نے صاف صاف یہ چوہڑے چمار سے ذلیل ناکارے لوگ ذرہ ناچیز سے کمتر حضرات انبیاء علیہم الصلٰوۃ والثناء اور خود سید الانبیاء صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو کہا "وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَیَّ مُنۡقَلَبٍ یَّنۡقَلِبُوۡنَ ﴿۲۲۷﴾٪"[8](اب جان جائیں گے ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھاتے ہیں۔ت)
[1] تقویۃ الایمان باب اول توحید وشرك کے بیان میں مطبع علیمی لوہاری گیٹ لاہور ص۸
[2] تقویۃ الایمان الفصل ثانی فی ردالاشراك فی العلم مطبع علیمی لوہاری گیٹ لاہور ص۱۵
[3] تقویۃ الایمان الفصل الرابع فی ذکر ردالاشراك فی العبادات مطبع علیمی لوہاری گیٹ لاہور ص۲۸
[4] تقویۃ الایمان الفصل الاول فی الاجتناب عن الاشراك مطبع علیمی لوہاری گیٹ لاہور ص۱۳
[5] تقویۃ الایمان الفصل الاول فی الاجتناب عن الاشراك مطبع علیمی لوہاری گیٹ لاہور ص۱۰
[6] تقویۃ الایمان الفصل الثالث فی ذکر ردالاشراك فی التصرف مطبع علیمی لوہاری گیٹ لاہور ص۲۰
[7] تقویۃ الایمان الفصل الخامس فی ردالاشراك فی العادات مطبع علیمی لوہاری گیٹ لاہور ص۳۸
[8] القرآن الکریم ۲۶/ ۲۲۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع