30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
موافقین تاویلیں کرتے ہیں،اب یہیں دیکھئے اس چمار والے کلام پر سے دفع ایراد کہ یہ عبارت پیش کی،خود اسمعیل کی زندگی میں اس پر مواخذے ہوئے،جامع مسجد دہلی میں شاہ عبدالعزیز کے اعزہ واخص تلامذہ مثل مفتی رشید الدین خاں صاحب وشاہ موسٰی صاحب نے مناظرے کئے الزام دئے،نہ اس نے کہا کہ یہ کلمات میرے نہیں،نہ اس کے ہوا خواہوں نے،جب سے آج تک،تو اس سے ثبوت یقینی ہے اور وہابیہ کہ بحالت موجودہ اسے مثل قرآن وعین ایمان مان رہے ہیں ان پر رد تو کسی ثبوت کی بھی حاجت نہیں کمالایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)
رابعًا: ایسی جگہ خلق سے مراد وہ ہوتے ہیں جو عظمت دینی سے اصلا حصہ نہیں رکھتے شیخ سعدی قدس سرہ فرماتے ہیں: ؎
نگہدارد آں شوخ درکیسہ در کہ داند ہمہ خلق راکیسہ بر [1]۔
(موتیوں کی بات ایسے شوخ سے ہوشیار رہو جو تمام لوگوں کو جیب کترا سمجھتا ہے۔ت)
ابلیس ہوگا وہ جو کہے کہ اس سے عام مراد ہے کہ انبیاء واولیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کو بھی معاذاﷲ گرہ کاٹ جانے،حقیقت امر یہ ہے کہ مخلوق دو قسم ہے:
اول: وہ کہ عظمت دینی رکھتے ہیں جن کے سروسر ورمطلق حضور سید المرسلین ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلیہم وبارك وسلم،پھر باقی حضرات انبیاء وملائکہ واولیاء واہلبیت وصحابہ،پھر دیگر علماء وصلحاء واتقیاء،پھر سلاطین اسلام،پھر عام مومنین،نیز صحائف دینیہ مثل مصحف شریف وکتب فقہ وحدیث،صفات جمیلہ مثل ایمان وعمل،اعمال صالحہ مثل نماز وحج،اخلاق فاضلہ مثل زہد وتواضع،اماکن مقدسہ مثل کعبہ مکرمہ وروضہ منورہ،غرض جملہ اشخاص واشیاء جن کو مولٰی عزوجل سے علاقہ قرب ہے۔اس علاقہ کے سبب ان کی تعظیم اﷲ عزوجل ہی کی تعظیم ہے اور ان کی عزت اس کی عزت ہے،رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
ان من اجلال اﷲ اکرام ذی الشیبۃ المسلم وحامل القراٰن غیر الغالی فیہ والجافی عنہ واکرام ذی السلطان المقسط [2]۔ |
بیشك اﷲ کی تعظیم سے ہے بوڑھے مسلمان کی عزت کرنی،اور حافظ قرآن کی کہ نہ اس میں حد سے بڑھے نہ اس سے دوری کرے،اور حاکم عادل کی۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع