30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
محرف بائبل کے ہزار در ہزار نسخے،فتوحات مکیہ کے تمام مصری نسخے نسخہ محرفہ سے منقول ہوئے او ر اس کی نقلیں مصرمیں چھپیں اور اب وہ گھر گھر موجود ہیں،حالانکہ تواتر درکنار ایك سلسلہ صحیحہ آحادسے بھی ثبوت ہیں،"وَ اللہُ یَقُوۡلُ الْحَقَّ وَہُوَ یَہۡدِی السَّبِیۡلَ ﴿۴﴾"[1](اور اﷲ حق فرماتا ہے اور وہی راہ دکھاتا ہے۔ت)علامہ شامی کا ظن پر اکتفا صاف باتوں کے لئے وجہ ہے مگر ایسے امور میں اس پر قناعت قطعا حرام،ورنہ معاذاﷲ اکا بر ائمہ واعاظم علماء کی طرف نسبت کفر ماننی پڑے،ہماری نظر میں ہیں وہ کلمات جو اکابر اولیاء سے گزر کر اکابر علماء معتمدین مثل امام ابن حجر مکی وملا علی قاری وغیرہما کی کتب مطبوعہ میں پائے جاتے ہیں،اور ہم یقین کرتے ہیں کہ وہ الحاقی ہیں،ایك ہلکی نظیر علی قاری کی شرح فقہ اکبر صفحہ ۴۷ پر ہے:
|
ماسمی بہ الرب نفسہ وسمی بہ مخلوقاتہ مثل الحی والقیوم والعلیم والقدیر [2]۔ |
نا م کہ رب تعالٰی نے اپنے لئے اور مخلوق کے لئے مقرر فرمائے وہ مثل حی،قیوم،علیم،قدیر ہیں۔(ت) |
اس میں مخلوقات پر قیوم کے اطلاق کا جواز ہے حالانکہ ائمہ فرماتے ہیں کہ غیر خدا کو قیوم کہنا کفر ہے۔مجمع الانہر میں ہے:
|
اذا اطلق علی المخلوق من الاسماء المختصۃ بالخالق نحو القدوس والقیوم والرحمٰن وغیرھا یکفر [3]۔ |
جو اﷲ تعالٰی کے مخصوص ناموں میں سے کسی نام کا اطلاق مخلوق پر کرے،جیسے قدوس،قیوم اور رحمن وغیرہ تو وہ کافر ہوجائے گا۔(ت) |
اسی طرح او رکتابوں میں ہے۔حتی کہ خود اسی شرح فقہ اکبر صفحہ ۲۴۵ میں ہے:
|
من قال لمخلوق یا قدوس اوالقیوم او الرحمٰن کفر [4]۔ |
جو کسی مخلوق کو قدوس یا قیوم یا رحمٰن کہے کافر ہوجائے۔ |
پھر کیونکر مان سکتے ہیں کہ وہ صفحہ ۴۷ کی عبارت علی قاری کی ہے ضرور الحاق ہے اگر چہ کتاب اجمالا مشہور ومعروف ہے، بخلاف کلمات اسمعیل کہ موافق ومخالف کے نزدیك اس سے متواتر ہیں،مخالفین رد کرتے ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع