30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مقدمہ امام ابوعمر وبن الصلاح میں عروہ بن زبیر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے ہے کہ انھوں نے اپنے صاحبزادے ہشام سے فرمایا:تم نے لکھ لیا؟ کہا:ہاں۔مقابلہ کرلیا؟ کہا:نہ۔فرمایا:لم تکتب [1]تم نےلکھا ہی نہیں۔اسی میں امام شافعی ویحیٰی بن ابی کثیر سے ہے کہ دونوں صاحبوں نے فرمایا:
|
من کتب ولم یعارض کمن دخل الماء ولم یستنج [2]۔ |
جس نے لکھا اور مقابلہ نہ کیا وہ ایسا ہے کہ پانی میں داخل ہے اور استنجا نہ کیا۔ |
اسی میں ہے:
|
اذا اراد ان ینقل من کتاب منسوب الی مصنف فلا یقل"قال فلان کذا وکذا"الا اذا وثق بصحۃ النسخۃ بان قابلھا ھواوثقۃ غیرہ باصول متعددۃ [3]۔ |
جب کسی کتاب سے کہ کسی مصنف کی طرف منسوب ہے کچھ نقل کرنا چاہے تو یوں نہ کہے کہ مصنف نے ایسا کہا جب تك کہ صحت عامہ نسخہ پر اعتماد نہ ہو یوں کہ اس نے خواہ اور ثقہ نے اس متعدد صحیح نسخوں سے مقابلہ کیا ہو۔ |
اسی میں ہے:
|
یطالع احدھم کتابا منسوبا الی مصنف معین وینقل منہ عنہ من غیر ان یثق بصحۃ النسخۃ قائلا "قال فلان کذاوکذا او ذکر فلان کذا وکذا" والصواب ماقدمناہ اھ [4] و لفظ الفتاوی الحدیثیۃ عنہ والصواب ان ذلك لایجوز [5]۔ |
کسی معین مصنف کی طرف منسوب کتاب میں ایك عبارت دیکھ کر آدمی نقل کردیتاہے کہ مصنف نے ایسا کہا حالانکہ صحت نسخہ پر وثوق(بروجہ مذکور کہ اصل نسخہ مصنف سے بلا واسطہ یا بوساطت ثقات اس نے یا اورثقہ نے مقابلہ کیا ہو) حاصل نہیں مثلا یوں کہے کہ فلاں نے یوں یوں کہا یا فلاں نے یوں یوں ذکر کیا،حق یہ ہے کہ یہ ناجائز ہے۔ |
[1] مقدمہ ابن الصلاح النوع الخامس والعشرون فاروقی کتب خانہ ملتان ص۹۲
[2] مقدمہ ابن الصلاح النوع الخامس والعشرون فاروقی کتب خانہ ملتان ص۹۲
[3] مقدمہ ابن الصلاح النوع الرابع والعشرون فاروقی کتب خانہ ملتان ص۸۷
[4] مقدمہ ابن الصلاح النوع الرابع والعشرون فاروقی کتب خانہ ملتان ص۸۷
[5] الفتاوٰی الحدیثیہ مطلب ان الانسان لایصح لہ ان یقول الخ المطبعۃ الجمالیۃ مصر ص۶۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع