30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
امر میں جسے مسند کلمہ کفر بنایا اور اس سے توہین شانِ رسالت کے جواز پر سند لانا ہے،اس پر اعتماد اور بات،علما کے نزدیك ادنٰی درجہ ثبوت یہ تھاکہ ناقل کے لئے مصنف تك سند مسلسل متصل بذریعہ ثقات ہو، خطیب بغدادی بطریق الرحمان سلمی امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی کہ فرمایا:
|
اذا وجد احد کم کتابا فیہ علم لم یسمعہ عن عالم فلیدع باناء وماء فلینقعہ فیہ حتی یختلط سوادہ فی بیاضہ [1]۔ |
جب تك تم میں کوئی ایك کتاب پائے جس میں علم کی بات ہے اور اسے کسی عالم سے نہ سنا تو برتن میں پانی منگاکر وہ کتاب اس میں ڈبو دے کہ سیاہی سپیدی سب ایك ہو جائے۔ |
فتاوٰی حدیثیہ امام زین الدین عراقی سے ہے:
|
نقل الانسان مالیس لہ بہ روایۃ غیر سائغ بالاجماع عند اھل الدرایۃ [2]۔ |
یعنی علمائے کرا م کا اجماع ہے کہ آدمی جس بات کی سند متصل نہ رکھتا ہو اس کا نقل اسے حلال نہیں۔ |
ہاں اگر اس کے پاس نسخہ صحیحہ معتمدہ ہو کہ خود اس نے یا کسی ثقہ معتمد نے خود اصل نسخہ مصنف سے مقابلہ کیا یا اس نسخہ صحیحہ معتمدہ سے جس کا مقا بلہ اصل نسخہ مصنف یا اور ثقہ نے کیا وسائط زیادہ ہوں تو سب کا اسی طرح کے متعمدات ہونا معلوم ہو تو یہ بھی ایك طریقہ روایت ہے اور ایسے نسخہ کی عبارت کو مصنف کا قول بتانا جائز،فتاوٰی حدیثیہ میں ہے:
|
قالوا ماوجد فی نسخۃ من تصنیف فان وثق بصحۃ النسخۃ بان قابلھا المصنف اوثقہ غیرہ بالاصل او بفرع مقابل بالاصل وھکذا جاز الجزم بنسبتھا الی صاحب ذلك الکتاب وان لم یوثق لم یجزم [3]۔ |
یعنی علماء نے فرمایا جو عبارت کسی تصنیف کے کسی نسخہ میں ملے اگر صحت نسخہ پر اعتماد ہے یوں کہ اس نسخہ کو خود مصنف یا کسی اور ثقہ نے خاص اصل مصنف سے مقابلہ کیا ہے یا اس نسخہ سے جسے اصل پر مقابلہ کیا تھا،یوں ہی اس ناقل تک، جب تو یہ کہنا جائز ہے کہ مصنف نے فلاں کتاب میں یہ لکھا ورنہ جائز نہیں۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع