30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علمِ ذاتی عــــــہ۱ میں اس کی توحید یقینی،دوسرے کو اپنی ذات سے بے عطائے خدا عالم بالذات کہنا قطعًا کفر نہیں،ہاں وہ جوبالفعل جُھوٹا ہے جس عــــــہ۲ کے لئے وقوعِ کذب کے معنے درست ہو گئے جو اسے جھٹلائے مسلمان عــــــہ۳ سنی صالح ہے اسے کوئی سخت کلمہ نہ کہنا چاہئے،دیوبندی خدا عــــــہ۴ چوری بھی کر سکتا ہے وہ تمام جہان عــــــہ۵ کا تنہا مالك نہیں اُس کے سوا اور بھی مالك مستقل ہیں جن کی ملك میں وہ چیزیں ہیں جو دیو بندی خدا کی کی ملك میں نہیں اُن پر للچائے تو چاہے ٹھگوں لٹیروں کی طرح جبرًا غصب کر بیٹھے کیونکہ وہ ظالم بھی عــــــہ۶ ہو سکتا ہے اُچَکّوں چوروں کی طرح مالکوں کی آنکھ بچا کر لے بھاگے کیونکہ وہ چوری کر سکتا ہے،ہاں وُہ جس کی تو حید باطل ہے کہ ایك وہی خدا ہوتا تو دوسرا مالك مستقل نہ ہوسکتا اور دوسرا مالك مستقل نہ ہوتا تو دیو بندی خدا چوری کیسے کر سکتا کہ اپنی ملك لینے کو چوری نہیں کہہ سکتے اور اگر وہ چوری نہ کرسکتا تو دیو بندی بلکہ عام وہابی دھرم میں علٰی کل شیئ قدیر نہ رہتا انسان اُس سے قدرت میں بڑھ جاتا کہ آدمی تو چوری کر سکتا ہے اور وہ کر نہ سکا اور یہ محال ہے۔لا جرم ضرور ہے کہ دیو بندی خدا چوری کر سکے تو ضرور ہے کہ اس کے سوا اور بھی مالك مستقل ہوں تو لازم ہے کہ دیو بندی خدا کم ازکم مجوسی خداؤں کی طرح دو۲ہوں،نہیں نہیں بلکہ قطعًا لازم کہ کروڑوں ہوں کہ آدمی کروڑوں اشخاص کی چوری کرسکتا ہے دیوبندی خدا نہ کرسکے تو آدمی سے قدرت میں گھٹ رہے،لا جرم ضرور ہے کہ کروڑوں خدا ہوں جن کی چوری دیو بندی خدا کر سکے،رہا یہ کہ وہ سب کے سب اسی کی طرح چوٹے بد معاش ہیں یا صرف یہ،اس کا فیصلہ تھانوی صاحب کے سر ہے۔ہاں دیو بندی خدا وُہ ہے کہ علم عــــــہ۷ میں شیطان اس کا شریك ہے سب سے بد تر
عــــــہ۱:یہ قول رشید احمد گنگوہی کا ہے،فتا وٰی گنگوہی جلد اول ص ۳ ۸"جو یہ عقیدہ ہو کہ خودبخود آپ کو علم تھا بدون اطلاع حق تعالٰی کے تو اندیشہ کفر کا ہے امام نہ بنانا چاہیے اگر چہ کافر کہنے سے بھی زبان روکے"تھانوی صاحب وغیرہ علمائے وہابیہ سے استفتا ہے کہ علم ذاتی بے عطائے الٰہی کسی مخلوق کے لئے ماننا ضروریات دین کا انکار ہے یانہیں،ہے تو ایسے کے کفر میں شك کرنا بلکہ کفر نہ ماننا صرف اندیشہ کفر جاننا کفر ہے یا نہیں،ہے تو جنا ب گنگوہی صاحب کافر ہُوئے یانہیں،نہیں تو کیوں ۱۲۔
عــــــہ۲:فتوائے گنگوہی ۱۲۔ عــــــہ۳:فتوائے گنگوہی ۱۲۔
عــــــہ۴:مضمون محمود و حسن دیو بندی پر چہ مذکورہ نظام الملك ۱۲
عــــــہ۵:دیکھو مضمون مذکور دیو بندی مع پیکان جانگداز ص ۱۷۲۔ عــــــہ۶:مضمون مذکور
عــــــہ۷:براہین قاطعہ ایمان گنگوہی صاحب ص ۴۷۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع