30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں باندی غلام بنانا حلال ہواہو نیچری کے نزدیك خدا کی طرف سے ہر گز نہیں ہو سکتا،ایسے کو جس نے مدتوں اسلام میں اپنی خلاف مرضی باتیں ناپاك چیزیں،اصلی ظلم،ٹھیٹ نا انصافی روارکھی،ایسی بد باتیں بہائم کی حرکتیں کہ ایك لمحہ کے لئے بھی یہ بات مانی نہیں جا سکتی کہ سچّا مذہب جو خدا کی طرف سے اترا ہو اُس میں ایسے امور جائز ہوں۔ایسے کو جو ان سخت ظالموں،ٹھیٹ ناانصافوں جانور سے بدتروحشیوں کو جن کا
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
خدا ایسے قصور کا تقصیر وار نہیں ہو سکتا صفحہ ۲۴ جو امور لونڈیوں اور قیدی عورتوں کے ساتھ جائز سمجھے جاتے ہیں کیا حرکات بہا ئم سے کچھ زیادہ رتبہ رکھتے ہیں،کیا وہ کسی مذہب کے سچے اور خدا کے دئے پر دلیل ہو سکتے ہیں،حاشاوکلا ایك لمحہ کےلئے بھی یہ بات مانی نہیں جا سکتی کہ سچا مذہب جو خدا کی طرف سے اترا ہو اس میں ایسے امور جائز ہوں،صفحہ ۲۵ یہودی مذہب نے غلامی کے قانون کو جائز سمجھا،اور عیسٰی مسیح نے اس کی نسبت کچھ نہ کہا مگر محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے جو کچھ کہا اس کو کسی نے نہ سمجھا،صفحہ ۲۹ زمانہ اسلام میں بھی غلامی کی رسم پر جب تك آیتِ حُریت نازل نہ ہُوئی کچھ تھوڑا سا عملدر آمد ہُوا،اس میں کُچھ شك نہیں کہ قبلِ نزول آیتِ حریت جو غلام موجود تھے ان کو اسلام نے دفعۃً آزاد نہ کیا،نہ ان کے تعلقات کو توڑا،ملا حظہ ہو موسوی،عیسوی،محمدی تینوں دین باطل کردئے،مُوسوی تو یوں کہ اس نے غلامی کے قانون کو جائز رکھا،اور عیسوی یُوں کہ عیسٰی مسیح نے اسی شدید بیحیائی ٹھیٹ ظلم پر کچھ نہ کہا نبی کا کسی بات پر سکوت بھی اسے جائز کرنا ہے،اسلام یوں کہ صدر اسلام میں غلامی کی رسم پر عملدر آمد رہا پھر جب اس مرتد کے زعم میں آیت آزادی اُتری اس نے بھی اگلے حکموں کو بر قرار رکھا،ان بے حیائیوں کو معدوم نہ کیا۔سود منع فرمایا جب تو یہ حکم دیا کہ پہلے کا جو باقی رہا ہو وہ ابھی چھوڑدو ورنہ اﷲ و رسول سے لڑائی کو تیار ہو جاؤ،اور یہاں موجودہ ظلموں بے حیائیوں کو قائم رکھا جائز کر دیا فقط آئندہ کے لئے اس کے زعمِ ملعون میں منع کیا،بہر حال تینوں دینوں میں ہمیشہ یا ایك زمانہ دراز تك رسمِ غلامی جائز رہی،اور خود کہہ چکا کہ ایك لمحہ کےلئے یہ بات نہیں مانی جا سکتی کہ سچا مذہب جو خدا کی طرف سے اترا ہو اس میں ایسے امور جائز ہوں کیسا صاف صریح کہہ دیا کہ موسوی، عیسوی،محمدی تینوں دین باطل،اور پھر عجب ہے کہ اس کے پیرو اُسے نہ صرف مسلمان بلکہ اسلام کا سنورانے والا بتاتے ہیں کلا واﷲ بلکہ "اَبٰی وَاسْتَکْبَرَ٭۫ وَکَانَ مِنَ الْکٰفِرِیۡنَ﴿۳۴﴾"[1]،"وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَیَّ مُنۡقَلَبٍ یَّنۡقَلِبُوۡنَ ﴿۲۲۷﴾٪"[2](منکر ہو ا اور غرور کیا اور کافر ہو گیا، عنقریب جان لیں گے ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ت)۱۲ منہ علیہ الرحمۃ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع