30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اکثر بے عقل ہیں،ان کے اکثر جاہل ہیں،ان کے اکثر کافر ہیں،حالانکہ وہ سب ایسے ہی ہیں۔یونہی یہاں فرمایا کہ ان کے اکثر نہیں جانتے حالانکہ ان میں کوئی بھی نہیں جانتا یہاں تك کہ شیاطین کے بارے میں فرمایا"یُّلْقُوۡنَ السَّمْعَ وَ اَکْثَرُہُمْ کٰذِبُوۡنَ ﴿۲۲۳﴾ؕ "[1] ان میں اکثر جھوٹے ہیں حالانکہ یقینا وہ سب جھوٹے ہیں اور ان کے سوااور آیاتِ کثیرہ، اب یا تو یہ کہ اکثر سے کل مراد ہے جیسے کبھی کل سے اکثر مراد ہوتا ہے کریمہ"ومایتبع اکثرھم الاظنا"کے تحت میں مدارك التنزیل میں ہے:المراد با لاکثر الجمیع[2]اکثر سے مراد کل ہے۔ت)معالم التنزیل میں ہے:اراد بالاکثر جمیع من یقول ذٰلک[3]۔اکثرسے مراد وہ سب جو یہ کہتے ہیں(ت)شہاب علی البیضاوی میں ہے:
|
یعنی ان الاکثر یستعمل بمعنی الجمیع کما یرد القلیل بمعنی العدم،وحمل النقیض علی النقیض حسن وطریقۃ مسلوکۃ[4]اھ ۔اقول: لکن لاشك ان منھم من لایتبع ظناولاوھما ولاادنی شبھۃ انما یتبع ھوی نفسہ عناداواستکبارا "یَعْرِفُوۡنَہٗ کَمَا یَعْرِفُوۡنَ اَبْنَآءَہُمْؕ"[5]، "فَلَمَّا جَآءَہُمۡ مَّا عَرَفُوۡا کَفَرُوۡا بِہٖ ۫ فَلَعْنَۃُ اللہِ عَلَی الْکٰفِرِیۡنَ﴿۸۹﴾ "[6]" وَجَحَدُوۡا بِہَا وَ اسْتَیۡقَنَتْہَاۤ |
یعنی اکثر بمعنی کل ہے جیسے قلیل بمعنی معدوم استعمال ہوتا ہے اور ایك نقیض کی مراد پر دوسری نقیض کو مراد لینا اچھا اور مروج طریقہ ہے اھ۔میں کہتا ہوں،لیکن اس میں شك نہیں کہ ان کے بعض ظن اور وہم اور کسی ادنٰی شبہ میں متبلا نہیں وہ تو قطعًا عناد اور تکبر کی بنا پر نفسانی خواہش کے پیروکار ہیں(جس کو قرآن میں ہم نے یوں بیان فرمایا)نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو وہ خوب جانتے ہیں جیسے وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں(اور فرمایا)جب انکی پہچان کے مطابق وہ تشریف لائے تو انہوں نے اس کا انکار کردیا تو |
[1] القرآن الکریم ۲۶/ ۲۲۳
[2] مدارك التنزیل سورۃ یونس آیۃ ومایتبع اکثرھم الاظناکے تحت دارالکتاب العربی بیروت ۲/۱۶۳
[3] معالم التزیل علی ہامش الخازن سورۃ یونس آیۃومایتبع اکثرھم الاظنا کے تحت مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۸۹
[4] حاشیۃ الشہاب علی البیضاوی سورۃ یونس آیۃومایتبع اکثرھم الاظنا کے تحت دارصادر بیروت ۵/ ۲۸
[5] القرآن الکریم ۲ /۱۴۲و۶/ ۲۰
[6] القرآن الکریم ۲ /۸۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع