30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
"وَلَئِنۡ سَاَلْتَہُمۡ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوۡلُنَّ اللہُ ؕ"[1]
|
اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمان وزمین کس نے بنائے،ضرور کہیں گے اﷲنے۔ |
اور کلمہ گو فرقوں میں جو مرتد ہیں وہ تو نبی وقرآن سبھی کو جانتے قال اﷲ وقال الرسول سے سند لاتے نمازیں پڑھتے روزے رکھتے ہیں جیسے قادیانی،نیچری،چکڑالوی،وہابی،رافضی،دیوبندی،غیر مقلد خذلہم اﷲ تعالٰی اجمعین،پھر کیونکر کہا جائے کہ یہ اﷲ عزوجل کو جانتے ہی نہیں،ہاں نرے دہریوں کی نسبت یہ کہنا ٹھیك ہے جو اﷲ تعالٰی کو مانتے ہی نہیں۔
تقریر جواب: بعون الوھاب اقول وباﷲ التوفیق ایجاب وسلب متناقض ہیں جمع نہیں ہوسکتے وجود شیئ اس کے لوازم کے وجود کامقتضی اور ان کے نقائض ومنافیات کانافی ہے کہ لازم کا منافی موجود ہوتو لازم نہ ہو اور لازم نہ ہو تو شیئ نہ ہو،تو ظاہرہوا کہ سلب شے کے تین طریقے ہیں:
اول: خود اس کی نفی مثلا کہے انسان ہے ہی نہیں۔
دوم: اس کے لوازم سے کسی شئے کی نفی مثلًا کہے انسان تو ہے لیکن وہ ایك ایسی شیئ کانام ہے جو حیوان یا ناطق نہیں۔
سوم: ان کے منافیات سے کسی شئے کا اثبات مثلًا کہے انسان حیوان ناہق یا صاہل سے عبارت ہے ظاہرہے کہ ان دونوں پچھلوں نے اگرچہ زبان سے انسان کو موجود کہا مگر حقیقۃً انسان کو نہ جانا وہ اپنے زعم باطل میں کسی ایسی چیز کو انسان سمجھے ہوئے ہیں جو ہرگز انسان نہیں،تو انسان کی نفی اور اس سے جہل میں یہ دونوں اور وہ پہلا جس نے سرے سے انسان کا انکار کیا سب برابر ہیں فقط لفظ میں فرق ہے۔
مولٰی عزوجل کو جمیع صفات کمال لازم ذات،اور جمیع عیوب ونقائص اس پر محال بالذات کہ اس کے کمال ذاتی کے منافی ہیں،ك فار میں ہرگز کوئی نہ ملے گا جو اس کی کسی صفتِ کمالیہ کا منکر یا معاذ اﷲ اس کے عیوب ونقص ونقص کا مثبت نہ ہو،تو دہریے اگر قسم اول کے کے منکر ہیں کہ نفسِ وجود سے انکار رکھتے ہیں،باقی سب کفار دوقسم اخیر کے منکر ہیں کہ کسی کمال لازم ذات کے نافی یا کسی عیب منافی ذات کے مثبت ہیں،بہر حال اﷲ عزوجل کونہ جاننے میں وہ اور دہریے برابر ہوئے وہی لفظ وطرزِادا کافرق ہے،دہریوں نے سرے سے انکار کیا اور ان قہریوں نے اپنے اوہام تراشیدہ کانام خدا رکھ کر لفظ کا اقرار کیا،مولٰی سبحٰنہ وتعالٰی فرماتا ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع