30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو ان پر اعتراض بیجا ہے، رہا یہ کہ اس میں بھی تعیین والتزام ہے، ہوا کرے، تعیین تو التزام ہی کے لئے ہوتی ہے اور ان کے یہاں حسنات ہی کا التزام حرام ہے نہ کہ سیئات، بلکہ بسااوقات سیئات کا التزام ان کے یہاں فرض قطعی بلکہ مدارِ ایمان ہے، جیسا ان کے قرآن تقویۃ الایمان سے عیاں ہے۔ص۱۲میں ہے :
"اس کے گھر دور دور سے قصد کرکے سفر کرنا اور راستے میں نامعقول باتیں کرنے سے بچنا یہ کام عبادت کے ہیں جوکسی پیغمبر یا بھوت کو کرے اس پر شرك ثابت ہے[1]"۔(ملخصًا)
تو ثابت ہوا کہ مدینہ طیبہ کے راستے میں نامعقول باتیں کرنا فرض بلکہ مدارِ ایمان ہیں اگر نہ کرے گا مشرك ہوجائیگا، اور نہ ایك مدینہ طیبہ بلکہ سفر حج کے سوا گنگوہ یا دیوبند یا تھا نہ بھون جہاں کہیں جاتے ہوئے بھی نامعقول باتیں اور جنگ وجدال بلکہ فسق وفجور بھی نہ کرے گا مشرك ہوجائے گا کہ آیت نے سب کو ایك نسق میں بیان فرمایا ہے کہ:
|
"فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوۡقَۙ وَلَا جِدَالَ فِی الْحَجِّؕ"[2]۔ |
تو نہ عورتوں کے سامنے صحبت کا تذکرہ ہو، نہ کوئی گناہ، نہ کسی سے جھگڑا حج کے وقت(ت) |
(۱۳) داداپیر سے بغض کی کیا شکایت جب خود رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے شدید بغض رکھتے ہیں جن کی تفصیل کتب کثیرہ میں ہوچکی اور پھر آپس میں اپنا اصطلاحی فیض بانٹ رہے ہیں، الحق یہ فیض شیطانی ہے، اور محبوبوں کے بغض ہی سے ملتا ہے، تو نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے انقطاع سلسلہ جو بغض مشائخِ سلسلہ سے حاصل ہوگا،مضر نہیں بلکہ ضرور ہے۔
(۱۴) اوپر گزرا کہ یہ ملعون اخبث قول کفر قطعی وارتداد یقینی ہے لعن اﷲ قائلہ وقابلہ(اﷲ تعالٰی لعنت کرے اس کے قائل اور اس کو قبول کرنے والے پر۔ت) ان مرتدین سے کیا شکایت عجب ان سے جو مسلمان کہلاتے اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی شان میں ایسی شدید ناپاك گالیاں سنتے اور پھر ان کی تاویل کرتے یا قائل کو کافر کہتے ہچکچاتے ہیں لاوا ﷲ وہ خود اپنا ایمان اس دشنام دہندہ پر لٹاتے ہیں۔ اﷲ تعالٰی فرماتا ہے:
|
" لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوۡنَ بِاللہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوۡنَ مَنْ حَآدَّ اللہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ لَوْ کَانُوۡۤا اٰبَآءَہُمْ اَوْ اَبْنَآءَہُمْ اَوْ اِخْوٰنَہُمْ |
تونہ پائے گا ان لوگوں کو جو اﷲ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اﷲ ورسول سے مخالفت کی اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع