30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہرشخص جانتا ہے کہ عین کی نفی ضد کا ثبوت ہے، جب تقویۃ الایمان کاپڑھنا عین اسلام ہے تو نہ پڑھنا قطعًا کفر ہے، حالانکہ کروڑوں مسلمان ہیں جو قرآن عظیم پڑھے ہوئے نہیں وہ کافر نہ ہوئے جب تقویۃ الایمان کارکھنا عین اسلام ہے تونہ رکھنا کفر ہے، حالانکہ کروڑوں مسلمانوں کے پاس قرآن نہیں ہوتا وہ کافرنہ ہوئے لیکن تفویۃ الایمان وہابیہ ضرور پاخانہ میں لیجاتے ہوں گے کہ جس وقت نہ رکھی عین اسلام سے چھٹے اور کافر ہوئے غالبًا گنگوہی صاحب کی قبر میں بھی رکھ دی گئی ہوگی کہ مر کر تو کافر نہ ہوں۔ مگر مصیبت یہ ہے کہ انہیں مٹی میں ملے پندرہ سال سے زائد ہوئے کتاب بھی گل گئی ہوگی، جب رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے دشمن ان کے نزدیك مرکر مٹی میں مل گئے تو وہ ناپاك کتاب کیارہی ہوگی، بہر حال گنگوہی صاحب اب تو اپنے حکم سے بھی کافر ہوئے ہونگے۔ خیر، کہنا یہ ہے کہ جب ایك ایسی کتاب نے غیر مقلدی بوئی تو گنگوہی صاحب اس کی اجازت کیوں نہ دیں ثابت ہوا کہ ان کے نزدیك مقلدین ائمہ معاذ اﷲکفار تھے اور ہیں کہ تقلید کرکے تفویۃ الایمان کا خلاف کیا اور اس پر عمل عین اسلام تھا تو ضرور کافر ہوئے، اور اگر کہئے کہ یوں تو گنگوہی ونانوتوی وتھانوی و دیوبندی صاحبان سب کفار ٹھہرینگے کہ ظاہرًا ان سب کا عمل تقلید پر ہے تو گنگوہی صاحب تقیہ کا حکم دے کر اس کا علاج کر گئے ہیں وہ کہہ دیں گے کہ ہمارا اور ان کا تقلید پر عمل تقیۃً ہے تو صورۃً کافرہوئے دل میں تو کفر نہیں غیر مقلدی بھری ہے۔
(۴)امکان کذب کا اب ذکر فضول ہے گنگوہی اور ان کے اتباع صراحۃً وقوعِ کذب لکھ چکے اس کی تفصیل کشفِ ضلالِ دیوبند میں ص۹۱سے ص۹۴تك دیکھئے۔
(۵)وصف کریم رحمۃ للعالمین مسلمانوں کے نزدیك تو ضرور خاصہ رحمتِ عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، مگر گنگوہی صاحب اسے کیونکر مانتے کہ اس سے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا مثل محال ہوجاتا کہ آیہ کریمہ
" وَمَاۤ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰۷﴾ "[1](اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت تمام جہانوں کیلئے۔ت) تمام ماسوااﷲ کو حضور کی رسالت عام کررہی ہے، سب ماسوا اﷲ حضور کے امتی ہیں اور امتی کا مثل نبی ہونا بداہۃً محال، لہذا عالمین کے عموم قطعی کو رد کرکے اس وصف کریم کو گلی گلی کے ملوں میں متبذل کردیا۔
(۶)اس کی نسبت اوپر گزرا کہ کفر قطعی ہے مگر گنگوہی صاحب سے اس کی شکایت نہ چاہئے ہر شخص اپنے بڑے کی بڑائی چاہتا ہے۔
(۷)مجلس میلاد مبارك کی نسبت جو مبشرات علمائے کرام وصلحائے عظام نے دیکھے کہ حضور اقدس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع