30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قلنا ان دفع قول الاشعری ان فعل العبد اضطراری ولکن این المحیص من ثبوت الحجۃ للعبد فی المعاصی فانہ یقول ماخلقت وانما قصدت وماکان قصدی ایضًا باختیاری فماذنبی،واعلم ان الکلام ھٰھنا ینجر الی حویصۃ اخری امر وادھی،لاتنحل بانامل الافکار الابتوفیق العزیز الغفار ولعصوبۃ ھذاسکت عنہ مثل السید الشریف فی موضعین من شرح المواقف والتزم مصیبتہ البحر فی الفواتح والعیاذ باﷲ تعالٰی وتتبعت کلمات المتکلمین و الاصولیین من جمیع مظان ھذا البحث الیھا فاجمتعت لی منھا ثمانیۃ اجوبۃ لاغناء فی شیئ منھا ثم المولٰی سبحٰنہ وتعالٰی فتح بفضلہ وھدانی للجواب الحق کما اوردت کل ذٰلك فی رسالتی"تحبیرالحبر بقصم الجبر۱۳۲۹ھ"التی الفتھا بعد ورود ھذا الاستفتاء قبل ان انھی الجواب عنہ فنکل ھذا البحث قبل ان انھی الجواب عنہ فنکل ھذا البحث الیھا ونفیض فیما کنا فیہ فنقول لھم تبین ان
|
نفسِ تخصیص تومتجدد ہے جس کو مؤثر سے غنی ٰ نہیں،اور تمام مذکور حضرات یہ کہیں کہ اختیاری سے ہماری مراد یہ ہے کہ وہ مختار سے یا اختیار پر صادر ہواگرچہ وہ اختیار اختیاری نہ ہو، تو ہم کہیں گے کہ یہ بات اگرچہ اشعری کے اس قول کے لئے دافع ہوجائیگی کہ بندے کا فعل اضطراری ہے،لیکن قیامت کے روز گناہوں پر جواب طلبی کے وقت بندے کی اس حجت،کہ میں نے گناہ کے فعل کی تخلیق نہ کی صرف قصد کیا،اور میرا قصداختیار ی بھی نہ تھا تو گناہ میرا کیسے ہوگیا،کا جواب کیسے بنے گا تو خلاصی نہ ہوئی،اور معلوم ہونا چاہئے کہ یہاں کلام ایك نئی مشکل میں پڑگیا ہے جو مشکل ترین ہے اوراﷲ تعالٰی العزیز الغفار کی توفیق کے بغیر افکار کے ذریعہ حل نہیں ہوسکتی بحث کی اس صعوبت کی بناء پر سید شریف نے شرح المواقف کے دو مقام پر خاموشی اختیارکرلی، اوربحر العلوم نے فواتح میں اس کو مصیبت تسلیم کیا ہے،والعیاذ باﷲ تعالٰی،اس معاملہ میں متکلمین اوراصولیین کے مواقعِ بحث کی میں نے چھان بین کی تو مجھے وہاں سے آٹھ جواب ملے جن سے کوئی تسلی بخش اطمینان نہ ملا،پھر مولٰی تعالٰی نے اپنے فضل اور رہنمائی سے حق جواب کا راستہ کھول دیا،جیسا کہ میں نے اس تمام بحث کو اپنے رسالہ"تجبیر الحبر بقصم الجبر"میں لایا ہوں،اس رسالہ کو میں نے اس استفتا کے ورود کے بعد اور اس کے جواب کو مکمل کرنے سے قبل تالیف کیا ہے،تو میں اس بحث کو اس کے سپرد کرتا ہوں اور اپنی جاری کلام میں چل رہا ہوں،تو ہم ان سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع