30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عن التعلقات فکلما تعلقت بمقدور معین سمیت جزئیۃ،فما القصد الجزئی الاخصوص تعلق تلك الصفۃ الشخصیۃ بفعل شخصی والتعلق امراضافی لاوجودلہ فی الاعیان فان اسند الی العبد لم یکن فی شیئ من الخلق فلم عدلتم عن قول الحنیفۃ وملتم الی تخصیص النصوص۔ وخامسًا عــــــہ ھب ان القصد بالقصد |
تعلقات سے خالی ہے توجب اس کا تعلق کسی جزئی اور معین مقدور سے ہوتا ہے تو وہی ارادہ جزئی کہلاتا ہے لہذا جزئی قصد وارادہ صرف اسی معنٰی میں ہے کہ اس شخصی صفت کا شخصی فعل سے خصوصی تعلق ہوتا ہے جبکہ یہ تعلق ایك نسبت و اضافت ہے جس کا خارج میں کوئی وجود نہیں ہے،لہذا اگر اس قصد جزئی کوبندے کی طرف منسوب کیا جائے تو کسی بھی چیز کا خلق نہ ہوگا(کیونکہ یہ خاص تعلق ہے جس کا کوئی وجودنہیں ہے)تو آپ حضرات نے کس خاطر احناف رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے قول سے اعراض کیا اور کیوں نصوص میں تخصیص کا تکلف کیا۔خامسًا،تسلیم کرلیں کہ قصد وارادہ کے لئے |
|
عــــــہ:اقول وھنا دلیلان اٰخران یمکن لہ الجواب عنھما۔ سادسًا:" وَ مَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللہُ ؕ"[1]فمشیتنا لیست بمشیتنا بل بمشیۃ ربنا۔ سابعًا: ورد مرفوعا وانعقد اجماع المسلمین علٰی قولھم ماشاء اﷲ |
اقول(میں کہتاہوں)یہاں دو دلیلیں اور ہیں،ان کا جواب ممکن ہے،پہلی سادسًا اور دوسری سابعًا ہے۔ سادسًا،اﷲ تعالٰی کے ارشاد"تم نہیں چاہو گے سوائے اس کے کہ اﷲ تعالٰی چاہے"کی رو سے ہماری کوئی مشیت نہیں ہے اگر ہے تو اﷲ تعالٰی کی مشیت سے ہے(توبندے کا مجبور ہونا ثابت ہے) سابعًا،مرفوع حدیث اور اجماعِ مسلمین سے ثابت ہے کہ یہ مسلم قول ہے جو اﷲ تعالٰی چاہے گا وہ (باقی اگلے صفحہ پر) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع