30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وان علم علمہ من جھۃ اخری واما ما نوزع فیہ بان الدلالۃ بالتتمۃ"iوَ ہُوَ اللَّطِیۡفُ الْخَبِیۡرُ ﴿٪۱۴﴾"[1]،فاقول: کونہ لطیفا خبیرا کاف فلولم یکف للخالقیۃ لکان اقحام من خلق مستدرکا،علی انہ قد تواتر من القراء الوقف علی من خلق فھی جملۃ مستقلۃ ولا توقف لھا علی مابعدھا والحق ان الکل دلیل مستقل، فلوکان قصدنا بخلقنا لکان بقصد نا وکل احد یعلم من وجدانہ انمایرید الفعل لاانہ یرید ان یرید ثم یرید۔ و رابعًا،لایخالف ملأ حتی المعتزلی ان الارادۃ الکلیۃ فینا لیس بخلقنا بل خلق ربنا خالق القول والقدر، فلا یکون لنا ان کان الاالقصد الجزئی۔ اقول: ولیست کلیۃ الارادۃ المخلوقۃ فی عبدانھا نوع تحتہ افراد بل ھی صفۃ شخصیۃ قائمۃ بشخص وانما کلیتھا بمعنی الاطلاق
|
اگر وہ اسے جانے گا تو دوری جہت سے جانے گا اور یہ نزاع کہ علم پر اس آیہ کریمہ کا تتمہ دلالت کررہا ہے تو میں کہتا ہوں کہ اﷲ تعالٰی کا لطیف و خبیر ہونا خالقیت کے لئے کافی ہے اور اگر یہ خالقیت کیلئے کافی نہ ہوتو پھر اس آیہ کریمہ کے درمیان"من خلق"کا ذکر زائد قرار پائے گا،اس کے علاوہ قراء حضرات کا"من خلق"پر وقت تواترسے منقول ہے لہذا یہ مستقل جملہ ہے جس کا معنٰی مابعد پر موقوف نہیں ہے،اور حق تو یہ کہ یہ دونوں جملے خالق کے عالم ہونے پر مستقل دلیل ہیں تواگر ہمارا قصد ہمارے خلق سے ہو تو وہ بھی ہمارے قصد سے ہوگا اور ہر ایك اپنے وجدان سے جانتا ہے کہ یہ فعل کا قصد اور ارادہ ہے نہ کہ یہ ارادے کا ارادہ ہے اور پھر اس ارادے کےلئے ارادہ کرنا ہوگا(تو اگر یہ قصدوارادہ فعل کیلئے نہ ہوبلکہ ارادے کےلئے ہوتو یوں ارادہ در ارادہ سے تسلسل لازم آئے گا) رابعًا،کوئی گروہ حتی کہ معتزلہ حضرات بھی اس بات سے انکاری نہیں ہیں کہ ہمارا کلی ارادہ ہمارا خلق نہیں ہے بلکہ یہ ارادہ کلیہ ہم میں اﷲ تعالٰی کا خلق ہے،اور ہمارا رب خالق قول اورخالق قدرہے،تو یہ ارادہ کلیہ ہمارا خلق نہیں،اگر ہمارا ہے توصرف جزئی ارادہ ہے۔اقول:(میں کہتا ہوں)بندے میں پیدا شدہ ارادہ اس معنی میں کلیہ نہیں کہ اس کے تحت کئی افراد ہوں بلکہ یہ ایك صفت ہے جو شخصی ہے اور ایك شخص سے قائم ہے،اس ارادے کی کلیت اس معنی میں ہے کہ یہ ارادہ تمام |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع