30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
واجمع علیہ الفریقان،شھدت بہ البداھۃ وادی الیہ البرھان،ان لاجبرولاتفویض ولکن امربین امرین، (وسرت اسرد فیہ الکلام الٰی ان قلت) فالتکلیف حق، والجزاء حق،والحکم عدل، و الاعتراض کفر، والاستبداد ضلال، والتحج رجنون،والجنون فنون، ولا حجۃ لاحد علی اﷲ تعالٰی مھما فعل وﷲ الحجۃ البالغۃ، لایسئل عما یفعل وھم یسئلون، فھٰذا ایماننا ولانزید علیہ وان سئلنا عما ورائہ قلنا لا ندری ولاکلفنا بہ ولا نخوض بحرا لانقدر علی سباحتہ نسأل اﷲ الثبات علی دین الحق وسذا جتہ،والحمد ﷲ رب العٰلمین [1]اھ۔ وثالثًا:الخلق لغۃ وعرفا وشرعا ھوالایجاد بالاختیار، قال تعالٰی"اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ ؕ"[2]،فافادان العلم لازم للخلق وذٰلك ھوالایجاد بالقصد فان الموجب لایجب ان یعلم الموجب من جھۃ کونہ موجبا |
ثابت کیا،جس پر دونوں فریق متفق ہیں،جس پر بداہت شاہد ہے اور جس پر دلیل و برہان نے آگاہی دی ہے کہ نہ جبر ہے نہ تفویض ہے بلکہ ان دونوں چیزوں کے بین بین ایك امر ہے،میں نے اپنا کلام جاری رکھتے ہوئے آخر میں یہ کہا کہ تکلیف حق ہے،جزاء حق ہے اورحکم عدل اور انکار کفر ہے،بندہ کو مستقل بنانا گمراہی ہے اور اس کو پتھر بنانا جنون ہے اور جنون کئی قسم ہے اور اﷲتعالٰی جو کرتا ہے اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہے،کامل حجت اﷲ تعالٰی کی ہے وہ جو کرے اس پر اعتراض نہیں،لوگ جو کریں ان سے پوچھ ہوگی،پس ہمارا تو یہ ایمان ہے اور بس،اس سے زائد کوئی ہم سے سوال کرے تو کہہ دیں گے،کہ ہم نہیں جانتے اور نہ ہم اس کے مکلف ہیں،ہم اس سمندر میں غوطہ زن نہ ہونگے جس میں تیراکی نہیں کرسکتے،ہم تو اﷲ تعالٰی سے اس کے دین پر ثابت قدمی اور سادہ فہمی کی دعا کرتے ہیں والحمدﷲ رب العالمین اھ ثالثًا:لغت،عرف اور شرع میں خلق کا معنٰی"اختیار سے کسی چیز کو ایجاد کرنا"ہے،اﷲ تعالٰی کا ارشاد ہے الایعلم من خلق یعنی کیا تخلیق کرنے والا علم نہیں رکھتا،تو اس آیہ کریمہ نے یہ فائدہ دیا کہ خلق کو علم لازم ہے جبکہ یہی ایجاد بالقصد ہے،اس کے برخلاف موجب کے لئے ضروری نہیں کہ وہ موجب ہونے کی حیثیت سے موجب کوجانے، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع