30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
والٰی منحی ھذا ینحو مافی المسایرۃ غایۃ مافیہ انہ تعالٰی قدرہ علی بعض مقدوراتہ تعالٰی کما انہ اعلمنا بعض معلوماتہ سبحٰنہ تفضلا [1]الخ وبالجملۃ لاتنافی بین کونہ مقدوراﷲ تعالٰی ومقدورالعبد باقدارہ حتی یقال لم یکن للعبد شیئ وایضًا لایلزم من کونھا مقدورۃ للعبد الاعتزال لانھم یقولون بخالقیۃ العبد والخلق افاضۃ الوجود والحال غیر موجود ھذا،ولیعلم انی لاارید بالدفاع عن ھذاالقول ان اقول بہ انما اقول انی لااعلم مایردہ من نص اواجماع وقد رأوا ان ھٰھنا ثلٰثۃ اشیاء حال بین عینین ارادۃ العبد وفعلہ وتعلقھا بہ فان
|
کوئی قول بھی مذکورہ اعتراض سے نہ بچ سکے گا بلکہ یہ اعتراض ختم ہوگا تو میرے اس قول سے ہوگا کہ بندے کا فعل اﷲ تعالٰی کا مقدور ہے بلکہ اسکی مراد بھی ہے لیکن اﷲ تعالٰی ارادہ فرماتا ہے کہ بندہ اس فعل کا ارادہ کرے تو پایا جائے،تواس طرح نہ جبر لازم آیااور نہ ہی اعتزال ہوا میرے کلام کے انداز پر ہی مسایرہ کا یہ بیان ہے،اس میں انتہائی قابل اعتراض بات یہ ہوگی کہ اﷲ تعالٰی نے اپنے بعض مقدورات پر بندے کو قادر بنادیا(جبکہ واقع میں ایسا ہے)جیسے اﷲ تعالٰی اپنے بعض معلومات کا ہمیں علم دیتا ہے اور یہ اس کا فضل ہے الخ،خلاصہ یہ کہ اﷲ تعالٰی کے مقدور اور اﷲ تعالٰی کے قادربننے پر بندے کے مقدور،میں کوئی منافات نہیں تاکہ یہ کہا جائے کہ بندے کی کوئی قدرت نہیں،نیز فعل کا اﷲ تعالٰی کی قدرت سے بندے کا مقدور ہوجانے سے اعتزال بھی لازم نہ آئے گا،کیونکہ معتزلہ بندے کی خالقیت کا قول کرتے ہیں، جبکہ خلق وجود عطا کرنے کا نام ہے حالانکہ حال(قصد)موجود نہیں ہوتا،اسے محفوظ کرو۔معلوم ہونا چاہئے کہ حال(قصد) میں بندے کی تاثیر والے قول کے دفاع سے میرا مقصد یہ نہیں کہ میں اس کا قائل ہوں،میں تو یہ کہہ رہا ہوں کہ اس قول کے رد میں کوئی نص یا اجماع میرے علم میں نہیں ہے،جبکہ ان کے خیال میں یہاں تین |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع