30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فلا فائدۃ لتمسك بالحال[1] اھ باختصار۔ اقول:و تلك شکاۃ ظاھر عنك عارھا،ولما یتراأی ظاھر ان ھٰذا سوال عام الورود لا محیص عنہ لشیئ من الاقوال فشان من اثبت للقدرۃ الحادثۃ تا ثیرا مافی شیئ من عین اوحال فیقال لہ کما قلتم فان قال ان ذلك الشیئ لیس مقدوراﷲتعالٰی فھوالاعتزال اوقال مقدور لہ فلم یبق للعبد شیئ وھو الجبر ومن لم یثبت کسا دتنا الا شعریۃ فقد افصح بالشق الا خیر من الاول فیقال اذن لا شیئ للعبد البتۃ فھو الجبر بعینہ و ذٰلك لا نہ انما یر ید انکم لجأ تم الٰی ھٰذا نفیا للجبر فاذااعترفتم انہ واقع بقدرۃ اﷲتعالٰی لا بقدرۃ العبد لا ستحالۃ اجتماع مؤثرین علٰی اثر فقد انتفٰی الملجأ ولزم القرار علٰی ما منہ الفرار فالمعنی ھو الجبر بعینہ عند کم بل لما اقول یختار انہ مقدور اﷲتعالٰی بل و مرادہ ایضا لکن ارادان یر ید العبد فیکون فلا جبر ولا اعتزال
|
مذہب ہے،لہذا حال کا سہارا لینا بیکار ہوا اھ اختصارًا اقول(میں کہتا ہوں)یہ ایسی شکایت ہے جس کی عار آپ کی طرف سے ظاہر،اورظاہرًا نظر آرہا ہے کہ یہ سوال عام الورود ہے اس سے کسی قول کو بھی چھٹکارا نہیں ہے،تو جو بھی حادث قدرت کےلئے کسی قسم کی تاثیر کسی عین چیز یا حال میں ثابت کرے گاتو اس پر تمھارا یہی اعتراض وارد ہو گا کہ اگر یہ چیز الله تعالٰی کا مقدور نہیں تو اعتزال لازم آئے گا،اور اگر الله تعالٰی کامقدور ہو تو پھر بندے کا کچھ دخل نہ رہا،تو یہ جبر ہے،اور جو لوگ اس قدرت کے لئے کوئی تاثیر ثابت نہ مانیں جیسا کہ ہمارے سادات اشعریہ کا موقف ہے تو ان پر پہلی دو۲ شقوں میں سے دوسری شق والا اعتراض ہو گا کہ بندے کی کوئی تاثیر نہیں تو یہ بعینہ جبر ہے،بندے کے لئے تاثیر نہ ماننے والوں کی مراد یہ ہے کہ بندے کی تا ثیر ماننے والوں کو اس بات پر جبر کی نفی کرنے کے لئے مجبور ہونا پڑا،تو ان سے کہا جائےگا کہ تم نے بندے کی تاثیر ماننے کے باوجود جب یہ اعتراف کر لیا کہ الله تعالٰی کی قدرت سے بندے کا فعل ہوتا ہے اور بندے کی قدرت سے نہیں کیونکہ ایك اثر کے لئے دو موثر محال ہیں تو اس سے تمھار امقصد(یعنی جبر کی نفی)فوت ہو گیا اور جس سے فرار تھا اسی پر قرار ہُوا،یہی فعل کا الله تعالٰی کی قدرت سے ہونا تمھارے ہاں بعینہ جبر ہے،تو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع