30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فان کان القصد حالا غیر موجود و لا معد وم فلیس بخلق وعلیہ جمع من المحققین وعلٰی نفیہ فکذٰلك (ای لیس الکسب بخلق ایضا)علٰی ما قیل(ای قول صدر الشریعۃ)الخلق یقع بہ المقدورلامحل فی القدرۃ و یصح انفراد القادر با یجاد المقدور و الکسب یقع بہ فی محلھا ولا یصح انفرادہ با یجادہ ولو بطلت ھٰذہ التفرقۃ(بین الخلق و الکسب)علٰی تعذرہ(ای بطلانھا)وجب تخصیص القصد المصمم من عمو م الخلق بالعقل اھ [1] باختصار، مزیدا ما بین الھلا لین من شرحہ التقریر والتحبیر لتلمیذہ المحقق ابن امیر حاج رحمھما اﷲتعالٰی فقد ابان البون البین بین مابحثہ فی المسایرۃ وبین ماذھب الیہ الا مام القاضی وظھر ت بحمد اﷲتعالٰی منہ علیّ فائدۃ نفسیۃ وھوانی کنت کتبت علی المسایرۃ قبل ھذا بنحو اربع سنین ما نصہ نرجوان المصنف رحمہ اﷲتعالٰی رجع عنہ اذلم یذکرہ فی فکذٰلك ما یعتقدہ الا ما علیہ اھل السنۃ کما سیأ تی و نر جوان المولٰی سبحٰنہ وتعالٰی |
تو اگر قصد صرف ایسا حال ہو جو نہ معدوم اور نہ موجود ہو تو مخلوق نہ بنے گا۔قصد کے مخلوق نہ ہونے اور اس کے حال ہونے کی نفی محققین کی ایك جماعت کا موقف ہے اوریُوں ہی کسب بھی مخلوق نہیں ہے ایك قول کے مطابق یعنی صدر الشریعہ کے قول پرکہ خلق سے مقدور کا وجود محل قدرت کے بغیر ہوتا ہے اور اس میں قادر کا مقدور کے ایجاد میں منفرد ہونا صحیح ہوتا ہے اور کسب سے مقدور کا وجود محل قدرت (قصد)کے ذریہ ہوتا ہے اور اس کے بغیر ایجاد میں منفرد ہونا صحیح نہیں ہوتا،اور اگر(خلق اورکسب کا یہ فرق) باطل ہو جائے جبکہ یہ فرق متعذر ہے یعنی یہ فرق باطل ہے،تو پھر عموم خلق میں سے قصد مصمم کی تخصیص ضروری ہو گی اھ اختصارَا،اور ہلا لین میں اسکی شرح التقریر والتحبیر سے اضافہ ہے،یہ شرح ان کے شاگرد محقق ابن امیر الحاج(رحمہا الله تعالٰی)کی ہے،تو انھوں نے اپنی مسایرہ کی بحث اور امام قاضی کے مذہب میں واضح فرق کر دیا ہے اور میرے لئے بحمد الله تعالٰی یہاں ایك نفیس فائدہ ظاہر ہُوا،وہ یہ کہ میں نے مسایرہ پر چار سال قبل حاشیہ لکھا تھا جس کی عبارت یہ ہے،ہمیں امید ہے کہ مصنف رحمہ الله تعالٰی نے اسی سے رجوع کر لیا ہو گا کیونکہ انھوں نے تشبیہ(فکذٰلک)(میں اپنا عقیدہ ذکر کئے بغیر صرف اہلسنت کا موقف ذکر فرمایا ہے،کما سیأتی اور مجھے امید ہے کہ الله تعالٰی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع