30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
صفۃالفعل الٰی تاثیرقدرۃ العبد واین ماادعی المحقق من خلقہ عزمہ۔ اقول: ماذکرمن ان الصفۃاثرقدرۃ العبدحق بلا مریۃ لکن لاعلی الوجہ الذی قررالمصنّف بل الا مران المولٰی تعالٰی اجری سنتہ بان العبد اذا اراد فعلا یخلقہ اﷲ تعالٰی فیہ فالارادۃبخلق اﷲ تعالٰی والفعل بخلق اﷲتعالٰی ولیس للعبدمن الخلق شیئ لکن کون الفعل ارادیایتوقف علی ارادۃ العبد توقفا عقلیاقطعیااذلوخلق اﷲفیہ الفعل من دون ان یخلق فیہ ارادۃ لہ لکان کحرکۃالحجربالتحریك فلم یکن ارادیا والفعل لایکون طاعۃ ولامعصیۃالا اذا کان ارادیافھذہ الصفۃ للفعل لاتحصل الا بارادتنا ای لکونہ مصحوبا لارادۃ خلقھااﷲتعالٰی فیناولولا ذٰلك لم یکن طاعۃ ولامعصیۃ قطعًا،ثمّ انیّ رأیت المحقق ذکرفی التحریراماالحنفیۃ فالکسب صرف القدرۃالمخلوقۃ الی القصدالمصمم فاثرھا فی القصد ویخلق سبحٰنہ الفعل عندہ بالعادۃ |
اشتراك صرف فعل کی صفت کو بندے کی قدرت کی طرف منسوب کرنے میں ہے جبکہ محقق مذکور کا یہ دعوٰی کہ بندہ اپنے عزم کا خالق ہے،وہ کہاں ہے۔ اقول:(میں کہتا ہوں)قاضی کا یہ کہنا کہ فعل کی صفت بندے کی قدرت کا اثر ہے بلا شك یہ حق ہے لیکن اس طورپر نہیں جس طرح مصنّف نے اس کی تقریر کی بلکہ معاملہ یُوں ہے کہ الله تعالٰی کی یہ سنت جاریہ ہے کہ بندہ جب کسی فعل کا ارادہ کرتا ہے تو الله تعالٰی اس کے ارادہ پر فعل کی تخلیق فرماتا ہے لہذا ارادہ اور فعل دونوں الله تعالٰی کی مخلوق ہوئے اور بندے کا خلق میں کسی قسم کا کوئی دخل نہیں ہوتا لیکن کسی فعل کے ارادی ہونے کا دار و مدار بندے کے ارادے پر ہے یہ دار و مدار عقلی اور قطعی ہے کیونکہ اگر الله تعالٰی بندے کے ارادہ کے بغیر فعل کی اس میں تخلیق کر دے تو پھر یُوں ہُوا جیسے پتھر کو حرکت دی جائے تو وہ حرکت کرتا ہے،تو اس طرح فعل نہ ارادی ہو گا نہ طاعت و معصیت ہو گا،یہ جبھی ممکن ہے وُہ فعل ارادی ہو تو فعل کی یہ صفت ہمارے ارادے سے حاصل ہُوئی،یعنی یہ صفت الله تعالٰی کی طرف سے ارادہ کی تخلیق کے ساتھ حاصل ہُوئی،اگر یہ نہ ہو تو وہ فعل قطعًا طاعت و معصیت نہ بنے گا۔پھر میں نے محقق ابن ہمام کو تحریر میں یہ ذکر کرتے ہوئے پایا کہ حنفی حضرات کے ہاں کسب یہ ہے کہ مخلوق قدرت کو مصمم قصد کے لئے صرف کرنا اس مخلوق قدرت کا اثر قصد میں ہوتا ہے تو الله تعالٰی اس وقت اپنی عادت کریمہ کے مطابق فعل کو پیدا فرماتاہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع