30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وماقضٰی بہ القاضی کالفرق بین الغرب والشرق فماقال فی المسامرۃان حاصل کلام المصنف رحمہ اﷲ تعالٰی تعویل علٰی مذھب القاضی الباقلانی [1] الخ وتبعہ علی القاری فی منح الروض الا زھرفقال ما اختارہ ھوقول الباقلانی من ائمۃ اھل السنۃ [2] الخ فھما لا وجہ لہ نعم انما وافقہ فی لفظ وھوانہ یکون منسوبًاالیہ تعالٰی من حیث ھوحرکۃ والی العبد من حیث ھوزنا ونحوہ وقال القاضی قدرۃ اﷲتعالٰی تتعلق باصل الفعل،وقدرۃ العبد بوصفہ من کونہ طاعۃ اومعصیۃ،فمتعلق تاثیرالقدرتین مختلف کمافی لطم الیتیم تادیباوایذاء فان ذات اللطم واقعۃ بقدرۃاﷲتعالٰی وتاثیرہ،وکونہ طاعۃ علی الاول ومعصیۃعلی الثانی بقدرۃالعبدوتاثیرہ لتعلق ذٰلك بعزمہ المصمم[3] اھ فانماالاشتراك فی نسبۃ |
اور قاضی باقلانی کے فیصلہ میں فرق واضح ہو گیا یہ مغرب و مشرق جیسا فرق ہے،مسامرہ میں جو کہا کہ مصنّف رحمہ الله تعالٰی کے کلام کا ماحصل قاضی باقلانی کے مذہب پر اظہار اعتماد ہے الخ،اور ملا علی قاری نے منح الروض الازہر میں اس کی اتباع کرتے ہوئے کہا کہ مصنّف نے جسے اختیار کیا وُہ اہلسنّت کے ایك امام قاضی باقلانی کا قول ہے الخ،حالانکہ ان دونوں کی بات میں کوئی وزن نہیں ہے،ہاں اتنا ضرور ہے کہ فعل سے دو۲ قسم کی تا ثیروں کے تعلق میں دونوں کا لفظی اشتراك ہے،مصنّف نے کہا کہ فعل حرکت ہونے کے اعتبار سے الله تعالٰی کی طرف منسوب ہے اور مثلاَزنا وغیرہ ہونے کے اعتبار سے بندے کی طرف منسوب ہے اور قاضی نے فرمایا الله تعالٰی کی قدرت کا تعلق اصل فعل سے ہے اور بندے کی قدرت کا تعلق فعل کی صفت کہ طاعت یا معصیت ہونے سے ہے تو دونوں قدرتوں کی تا ثیر کا تعلق مختلف ہے،جیسا کہ یتیم بچے کو تھپّڑ مارنا تربیت اور ایذا بھی ہوتا ہے تو تھپڑ کالگنا الله تعالٰی کی قدرت اور تا ثیر سے ہوتا ہے اور طاعت کے لحاظ سے نیکی اور اذیت کے لحاظ سے گناہ ہونا یہ بندے کی قدرت اور تا ثیر سے ہے جو اس کے عزم مصمم کے تعلق کی وجہ سے ہُوئی اھ، تو یہاں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع