30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مخترعون لھابقدرتھم ثم المتقدمون |
اورا پنی قدرت سے ان کو سرزد کرتے ہیں پھر معتزلہ |
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) اذلامصحح سوی الحدوث والامکان وھمامشترکان افتراھم قائلین ان کل انسان وحیوان حتی الخناس والدیدان یقدرعلٰی خلق السمٰوٰت والارض وان لم یقع لھم لسبقۃخلق اﷲتعالٰی،وقدنص الاشعریۃان لیس للعبدمن الفعل الاالمحلیۃ فتدبروا نصف،والثانی ان الحادثۃ تحدث ولا تخلق وکفی بہ تاثیرا وھذاھوالذی حمل الحنفیۃ والقاضی والاستادوجمعامن المحققین علی القول بان للحادثۃتاثیرافیمادون الوجودوالحق ان العقل لایستقل بادارك تلك الحقائق فنؤمن بما اتی بہ القراٰن وشہدت بہ الضرورۃ وادی الیہ البرھان ان الفرق بین الانسان والحجروبین حرکتی البطش والارتعاش والصعود والھبوط والوثبۃ والسقوط بدیھی،وان لیس للانسان الاماسعی ولان لاخالق لشیئ الا العلی الاعلی وان لامشیئۃ للانسان الابمشیئۃاﷲتعالٰی ولانزید علی ھذاولانقتحم |
حدوث وامکان میں مساوی طور پر مشترك ہیں اور یہی حدوث و امکان ہی خلق و ایجاد کی صحت کا معیار ہیں تو کیا اشعریہ کو اس بات کا قائل تصور کرو گے کہ ہر انسان اور حیوان حتٰی کہ کیڑے مکوڑے زمین و آسمان کی تخلیق پر قادر ہیں اگر چہ اس تخلیق کا ان کو اتفاق نہ ہوا کہ الله تعالٰی کا خلق پہلے موجود ہے حالانکہ اشعریہ کی صریح نص ہے کہ فعل میں بندے کا دخل صرف محلیۃ کا ہے،تو غور اور انصاف کرو۔دوسرا یہ کہ قدرت حادثہ صرف حدوث کر سکتی ہے خلق نہیں کر سکتی اس کے لئے اتنی تا ثیر ہی کافی ہے،یہی وُہ حقیقت ہے جس نے احناف قاضی،استاذ ار محققین کی جماعت کو اس قول پر مجبور کیا کہ حادث قدرت کی تاثیر ہے لیکن وجود کے لئے مؤثر نہیں ہے،حق تو یہ ہے کہ ان حقائق کے ادراك میں عقل کو استقلال نہیں ہے لہذا قرآن کے بیان کردہ اور بداہت کی شہادت اور جہاں تك دلائل کی رسائی ہے کہ انسان اور پتھر،ارادی اور رعشہ کی حرکتوں،اٹھنے اور کوُدنے،گرنے اوراترنے میں بدیہی فرق پر ہم ایمان رکھیں اور انسان کے بس میں صرف سعی کرنا ہے اور الله تعالٰی کے بغیر کسی چیز کا کوئی خالق نہیں اور انسان کی مشیئت الله تعالٰی کی مشیئت کے تابع(باقی اگلے صفحہ پر) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع