30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
علٰی ان العبادموجدون لافعالھم |
اس پر متفق ہیں کہ بندے اپنے فعال کے موجد ہیں |
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) الا التا ثیربالفعل لا بالقوۃ لان القدرۃالحادثۃعندھم صفۃشانھا التأثیروالایجادولکن تخلف اثرھا فی افعال العبادلمانع ھوتعلق قدرۃاﷲتعالٰی بایجادھا،کما حقق فی شرح المقاصدوغیرہ اھ [1]قلت وصرح بہ الامدی ثم رأیت فی شرح المقاصدمن بحث القدرۃ الحادثۃ من مقصدالاعراض نسبہ لہ ولم یأت بتحقیق یزیدعلی مامر، اقول: وفیہ حزازۃ والقلب لا یطمئن بہ ولا یسکن الیہ والالکان کل حیوان ولواخس مایکون واضعہ قادراعلٰی الخلق والایجاد وان لم یتفق لہ ذٰلك لعروض مانع وھوسبقۃالخلق الالٰھی وماذاتفعل الاشاعرۃالاقدمون ح بدلیلھم ان لوقدر العبدعلی فعلہ لقدرعلی خلق الاجسام والجواھر
|
بالقوۃ تاثیر کی نفی نہیں کرتے،کیونکہ ان کے ہاں حادث قدرت ایسی صفت ہے جس کی شان تاثیرکرنا ہے لیکن بندوں کے افعال میں اس کا اثر اس لئے نہیں ہوتا کہ وہاں مانع موجود ہے اور وہ الله تعالٰی کی قدرت کا تعلق جو ان کے افعال کے ایجاد میں مؤثر ہے،کا موجود ہونا،جیسا کہ شرح مقاصد وغیرہ میں اس کی تحقیق ہے اھ قلت(میں کہتا ہوں)اس بیان کی تصریح آمد ی نے کی ہے پھر میں نے شرح مقاصد کی بحث قدرت حادثہ جو اعراض کے مقصد میں ہے،اس بحث کو ان کی طرف منسوب پایا جس میں گزشتہ تحقیق سے کچھ زائد نہیں ہے، اقول:(میں کہتا ہوں)اس میں خلش ہے اور دل کو اطمینان و سکون ا س سے حاصل نہ ہوسکا،ورنہ تو اس سے لازم آتا ہے کہ ہر انسان بلکہ خسیس ترین اور ضعیف ترین حیوان بھی خلق و ایجاد پر قادر ہوجائے اگرچہ اس کو مانع کی وجہ سے اتفاق نہ ہو سکے اوروہ مانع الله تعالٰی کی تخلیق کاپہلے موجود ہونا ہے،اور اشاعرہ متقدمین اس وقت اپنی اس دلیل کو کیسے بیان کریں گے کہ اگر بندہ اپنے فعل پر قادر ہو تو پھر وُہ اجسام و جواہر کے خلق پر بھی قادر ہو گا کیونکہ فعل اور اجسام دونوں (باقی اگلے صفحہ پر) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع