30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اصلا و اتفقت المعتزلۃ ومن تابعہم من اھل الزیغ |
مؤ ثر نہیں ہوتی جبکہ معتزلہ اور انکے متبعین گمراہ حضرات |
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) وانت تعلم ان القدرۃ انما تؤ ثر علی وفق الارادۃ وانما تعلقت الارادۃ فی الازل ان توجدالکائنات فی اوقاتھا المخصوصۃ فیمالایزال فلانسلم ان القدرۃ تعلقت مع العراء عن الاختراع بل اثرت واختراعت علی و فق الارادۃ اماھٰھنا فتعلق بلا تاثیر اصلافلم تکن الااسما بلا مسمی ولفظا بلا معنی وھذاما حصل ماناقشہ بہ فی المسایرۃ۔ اقول: ولا اری ھذہ العقدۃتنفك الاباحدامرین الاول لیست القدرۃماتؤثرحتماولامع الارادۃولامحیدعنہ للمعتزلۃ ایضا الاترٰی ان الکفرۃبذلواجھدھم فی ایذاء النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وھموابمالم ینالوا ورداﷲالذین کفروابغیظھم فانّما القدرۃ صفۃمن شانھا التاثیروتؤثرمع الارادۃ لولامانع وقدقال فی المسامرۃ شرح المسایرۃاعلم ان الاشعریۃلاینفون عن القدرۃ الحادثۃ |
آپ جانتے ہیں کہ قدرت کی تا ثیرارادہ کے موافق ہوتی ہے تو ازل میں اس ارادہ کا تعلق ہوا کہ کائنات اپنے مخصوص اوقات میں یعنی لا یزال میں موجود ہو،اس لئے ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ قدرت کا تعلق اختراع سے خالی ہو سکتا ہے بلکہ قدرت ارادہ کے موافق تاثیر کرتی ہے اور اختراع کرتی ہے،لیکن یہاں بند ے کے معاملہ میں قدرت کا تعلق ہر گز تاثیر کے لئے معنٰی نہیں،مسایرہ میں جو مناقشہ بیان کیا ہے یہ اس کا ماحصل ہے۔ اقول:(میں کہتاہُوں)اور یہ عقدہ میری رائے میں صرف دوامور میں سے ایك کے ساتھ حل ہو گا،اوّل یہ کہ کوئی بھی قدرت اگرچہ ارادہ کے ساتھ بھی ہو حتمی طور پر موثر نہیں ہے اور معتزلہ کو بھی اس سے فرار نہیں ہے،کیاآپ نہیں دیکھتےکہ کفار نے حضورنبی پاك صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کو ایذارسانی میں مکمل جدوجہد کی اور پورا عزم کیا جو حاصل نہ کر پائے اور الله تعالٰی نے کفار کے غیظ و غضب کو مردود کر دیا،لہذا قدرت ایك ایسی صفت ہے جس کی شان صرف تاثیر کرنا ہے اوروُہ ارادہ کے ساتھ تاثیر کرتی ہے بشرطیکہ کوئی مانع نہ ہو،چنانچہ مسامرہ شرح مسایرہ میں کہا ہے کہ اشعری حضرات قدرت حادثہ کی تاثیر بالفعل کی نفی کرتے ہیں اس کی (باقی اگلے صفحہ پر) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع