دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 15 | فتاوی رضویہ جلد ۱۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۵

المحقق صدر الشریعۃ فی التو ضیح والعلامۃ الشمس الفناری فی الفصول البدائع و تبعہ العلامۃ قاسم تلمیذ المحقق ابن الھما م فی تعلیقاتہ علی المسایرۃ وغیرھم رحمھم اﷲ تعالٰی وھم مع تنو ع مناز عھم یر جعون الٰی ذلك الحرف الواحد ولم ار احد منھم یر ضی بتخصیص العمومات،اللھم الا ماحکی عن الامام ابی المعالی علی الاضطر اب فیہ فتارۃ یثبتہ و تا رۃ ینفیہ کما فی الیواقیت عن الشیخ ابی طاھر القزوینی بل الکلام فی ثبوتہ عنہ کما سیأتی، والمنقول عن الحنفیۃفی کتب المتا خرین ھو ھذا القد راعنی ان للقدرۃ الحادثۃ اثرا فی القصد ا ما انہ خلق وایجاد او النصوص مخصصۃ فکلا لا یو جد ھذا الا للمحقق و قد قال الا ما م صدر الشریعۃ فی التو ضیح بعد ما استفرغ و سعہ فی التو ضیح والتنقیح فالحاصل ان مشایخنا ر حمھم اﷲ تعالٰی ینفون عن العبد قدرۃ الا یجاد والتکوین فلا خالق ولا مکون الا اﷲ تعالٰی لکن یقولون ان للعبد قدرۃ ماعلی وجہ لا یلزم منہ وجود امر حقیقی لم یکن بل انما یختلف بقدرتہ النسب والا ضافات فقط کتعین احد المتسا ویین و ترجیحہ [1]اھ فھذا نص

صدرالشریعۃ کا تو ضیح اور علامہ شمس فناری کا الفصول البدائع میں کلا م اسی پر دائر ہے،اور علامہ قاسم شاگردرشید محقق ابن ہمام نے مسایرہ پر اپنی تعلیقات میں اس کی اتباع کی ہے اور مذکور حضرات کے غیر رحمہم الله تعالٰی باوجودیکہ وُہ اپنے اپنے بیان میں مختلف ہیں وہ سب اس ایك بات پر متفق ہیں،میں نے اس میں سے کسی کو بھی عمومات میں تخصیص پر راضی نہیں پایا،صرف امام ابو المعالی سے اس میں اضطراب منقول ہے کہ کبھی وہ تخصیص کوثابت اور کبھی اسکی نفی کرتے ہیں جیسا کہ یواقیت میں شیخ ابو طاہر قزوینی سےمنقول ہے بلکہ ان سے ثبوت میں کلا م ہے جیسا کہ آرہا ہے،اور متأخرین کی کتب میں جو کچھ احناف سے منقول ہے وُہ صرف یہ ہے کہ انسان کی قدرت حادثہ کا اثر قصد میں ہے لیکن یہ کہ وُہ خلق و ایجاد ہے یا آیات میں تخصیص ہے اس کاہر گز کہیں وجود نہیں،ہاں صرف محقق مذکور نے ذکر کیا ہے جبکہ امام صدر الشریعۃ نے توضیح میں مکمل تو ضیح و تنقیح سے فراغت کے بعد فرمایا،کہ حاصل یہ ہے کہ ہمارے مشائخ رحمہم الله تعالٰی بندے کی قدرت خلق و ایجاد اور تکوین کی نفی کرتے ہیں لہذا الله تعالٰی کے ماسوا کوئی خالق اور مکّون نہیں ہے لیکن اس کے باوجود وُہ بندے کی قدرت کے اس طرح قائل ہیں کہ اس سے کسی معدوم چیز کے حقیقی وجود کا قول لازم نہ آئے بلکہ انسانی قدرت سے صرف نسبت و اضافت تبدیل ہوتی ہے مثلَا دو مساوی چیزوں میں سے ایك کا تعین اور ترجیح

 


 

 



[1] التو ضیح مع التلو یح فصل فی مسائل الجبر والقدر المطبعۃ الخیریۃ مصر ۲ /۱۵۵

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن