30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قبل حدوث ھٰؤلا المتأ خرین یکون فیہ ان للعبد ایضا قسطا من الخلق والا یجاد ولن یاتی بہ حتی بوب القار ظان ویمکن التکلف بارجاع ماللقاری الٰی ھذا ای الا جماع قائم علٰی عدم التخصیص فذلك العز م ایضا غیر مخرج من الحکم۔ ثانیًا: لا حاجۃ بنا الٰی تخصیص النصوص و اثبات منصب افاضۃ الوجود لمن لا وجود لہ فی حد ذاتہ بل تندفع الحاجۃ علٰی وزان ماتز عمون اندفاعھاھٰھنا باثبات تا ثیر القدرۃ الحادثۃ فی شیئ دون الوجود کما ھو مذھب الا مام ابی بکر الباقلانی اناللانسان قدرۃ مؤثرۃ لکن لا فی الوجود بل فی حال زائدۃ علی الوجود وقد ارتضاہ جمع من المحققین ذاھبین الی ان تا ثیر ھا فی القصد والقصد حال لا موجود ولا معدوم ای ھو من الامور الا عتبار یۃ التی وجو دھا بمنا شیھا والخلٰف فی الحال لفظی کما فی الفصول البد ائع وغیرھا،فلیس افاضتھا خلقا فانہ افاضۃ الوجو د بل ھو احداث والا حداث اھون من الخلق کما فی المسلم وفواتح وعلیہ تد ور کلمات الامام
|
جس میں یہ ہو کہ بندے کے لئے کبھی خلق و ایجاد میں دخل ہے ان سے قبل کسی امام سے کوئی نقل پیش نہیں کی جا سکتی حتی کہ قارظان واپس لوٹ آئیں،اور علامہ قاری کی کلام کوتکلف سے اسی عدم تخصیص کے اجماع کی طرف راجع کیا جائے گا کہ یہ عزم صمیم بھی ان آیات کے عموم سے خارج نہیں ہے۔ ثانیا:ہمیں ان نصوص کے عموم میں تخصیص کرنے اور ایجاد کا منصب ایسی ذات کے لئے ثابت کرنے کی حاجت نہیں جس کا اپنا وجود ذاتی نہیں ہے بلکہ بندے کے مجبور محض کو دفع کرنے کی حاجت ان کے اس اندفاع سے پُوری ہو جاتی ہے جس کو انھوں نے اپنے خیال میں اند فاع قرار دیتے ہوئے یہ کہا ہے کہ الله تعالٰی کی قدرت کی تا ثیر کے بعد بندے کی نئی تاثیر کا تعلق وجود میں نہیں بلکہ اور چیز میں ہے جیسا کہ امام ابو بکر با قلانی کا مذہب ہے،کہ انسان کی قدرت مؤثر ہے لیکن وجود میں نہیں بلکہ وجود سے زائد ایك حال میں ہے جس کو بہت سے محققین نے پسند کرتے ہوئے کہا کہ انسان کی تا ثیر کا تعلق قصد سے ہے اور یہ قصد ایك حال ہے جو نہ موجود ہے اور نہ معدوم ہے یعنی وہ ایك ایسی اعتباری چیز ہے جس کا و جود صرف اس کے منشاء کے تابع ہے اور اس حال میں اختلاف صرف لفظی جیسا کہ الفصول البدائع وغیرہ میں ہے تو اس قصد کو بروئے کار لانا بطور خلق نہیں ہوتابلکہ خلق اور وجود کا فیضان ہے جس کو احداث کہاجاتاہے اور احداث کی شان خلق سے کمزور ہے جیسا کہ مسلم الثبوت اور فواتح میں ہے اور امام محقق |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع