30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
سوٰی ان لا تاثیر لقدرۃ العبد فی ایجاد فعل اھ [1]ملخصًا،فاعترضہ القاری فی منح الروض بان ذٰلك العزم المصمم داخل تحت الحکم المعمم اھ ۔[2] اقول: ھذا من اعجب ما تسمع من الرد فابن الھما م متی انکر د خولہ تحت العام ولو انکرہ فما کان یحوجہ الی التخصیص بل النظر فیہ بما ستسمع بتو فیق اﷲتعالٰی، فاقول اولا: بل الاٰ یات عمومات لا تحتمل التخصیص لا جماع ائمۃ السنۃ علٰی اجرائھا علٰی سنتھا وان الخلق مختص باﷲ تعالٰی لا حظ فیہ للعبد فما ذاینفع کون اللفظ فی ذاتہ محتملا للخصوص مع الا جماع علٰی ان لا خصوص و من کان فی ریب مما قلنا فلیأ تنا بنقل من الصحا بۃ والتا بعین اومن بعد ھم من ائمۃ السنۃ المتقدمین
|
نہیں کرتا کیونکہ جبر کا موجب صرف یہی ہے کہ اس کے فعل کے ایجاد میں انسان کی اپنی قدرت کی تاثیر نہیں ہے اھ ملخصا،تو اس عذر پر ملا علی قاری نے منح الروض میں اعتراض کیا ہے کہ انسان کا یہ عزم صمیم خود ان آیات کے عموم میں داخل ہے اور وہ الله تعالٰی کا مخلوق ہے اھ۔ اقول:(میں کہتا ہُوں)تیری شنید میں یہ پسندیدہ رَد ہے،تو علّامہ ابن ھمام نے عزم کو کب آیات کے عموم میں داخل ہونے سے انکار کیا ہے،اگر انکار کیا ہوتا تو پھر تخصیص کی ان کو ضرورت پیش نہ آتی،بلکہ ا س میں قابل غور وُہ بات ہے جو آپ ابھی الله تعالٰی کی تو فیق سے سُنیں گے، فاقول:(تو میں کہتا ہُوں) کہ یہ آیا ت اپنے عموم پر ہیں ان میں کسی تخصیـص کا احتمال نہیں کہ اہلسنّت کے ائمہ کا اجماع ہے کہ یہ آیات اپنے عمومی اقتضاء پر جاری ہیں اور یہ کہ خلق کی صفت صرف الله تعالٰی سے خاص ہے اس میں بندے کا کوئی دخل نہیں ہے،تو لفظ کافی نفسہ محتمل تخصیص ہونا کیا مفید ہو سکتاہے جبکہ اجماع یہ ہے کہ یہاں تخصیص نہیں ہے،اور اگر ہمارے اس بیان میں کسی کو شك ہو تو اسے چاہئے کہ وُہ صحابہ کرام،تابعین اور ان کے بعد والے متقدمین ائمہ اہلسنّت میں سے کوئی نقل پیش کرے، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع